عراق میں انتخابات‘ التوا کا امکان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کے مطابق توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی لخدر براہیمی عراق میں قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کی تجویز کو مسترد کر دیں گے۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ لخدر براہیمی، جو عراق کے دورے سے نیویارک واپس پہنچ چکے ہیں، سکیورٹی کونسل کو بتائیں گے کہ جون کے اختتام تک انتخابات منعقد کرانے کے لئے وقت کم ہے۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان، لخدر براہیمی کی تجویز کی توثیق کر دیں گے۔
عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ رہنما اس بات کے خواہاں ہیں کہ ملک میں تیس جون سے پہلے انتخابات منعقد کرائے جائیں ایسے وقت میں کہ جب امریکی قیادت والی مخلوط انتظامیہ تمام اختیارات عراقی حکام کو سونپنے کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ تیس جون کو ہونے والے انتقال اقتدار سے پہلے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انتظامات کے لئے وقت نہیں ہے۔ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ انتخابات کم از کم سن دو ہزار پانچ کے اختتام تک ملتوی کر دیئے جائیں اور اس دوران عراق میں علاقائی سطح پر مذاکرات کے ذریعے نئی حکومت تشکیل دی جائے جو بعد میں ملک کا آئندہ آئین مرتب کرے۔ لخدار براہیمی نے ایک ہفتہ عراق میں گزارا جس دوران قبل از وقت انتخابات کے امکانات کے علاوہ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اس ضمن میں اقوام متحدہ کیا مدد کر سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||