کشمیر: متعدد ہلاکتوں کا دعوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سری نگر سے پچاس کلو میٹر جنوب میں واقع قصبہ شوپیاں شدت پسند تنظیم المنصورین نے بھارتی فوجی قافلے پر حملہ کرکے چار اہلکاروں کو اور سری نگر جموں شاہراہ پر پانچ اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے شوپیاں کے ایک بس سٹینڈ کے قریب فوجی اہلکاروں پر دستی بموں سے حملہ کیا جس کے بعد گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں دو شہری ہلاک ہوگئے۔ اس کے علاوہ تین فوجی اور اکتیس شہری زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی قصبہ اننتناگ میں شدت پسندوں نے ایک منحرف شدت پسند ظہور احمد بابا کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ ادھر متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ اور حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر نے سید صلاح الدین نے بقول ان کے تحریک جہاد سے الگ ہونے والے عناصر کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’دشمن‘ کے ہاتھوں میں کھلونا نہ بنیں۔ ایک ہفتہ قبل ریاسی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ شدت پسندی چھوڑنے والے لوگوں کو ڈیڑھ لاکھ روپے اور دوہزار روپے ماہانہ مشاہرہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کاروبار کے لئے آسان شرائط پر قرضہ بھی دیا جائے گا۔ سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پچھلے چودہ سالوں کے دوران تین ہزار سے زیادہ شدت پسند ہتھیار ڈال کر سرکاری ایجنسیوں سے تعاون کرنے لگے تھے تاہم بعد میں کئی پھر سے اپنی سابق تنظیموں میں واپس چلے گئے تھے۔ کشمیر میں گزشتہ روز تشدد کے مختلف واقعات میں پولیس اہلکاروں سمیت سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||