| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاض میں زبردست دھماکے
سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک رہائشی احاطے پر خود کش حملے میں پانچ افراد ہلاک اور ایک سو زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم سفارتکاروں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم سے کم بیس ہے۔ حملے میں دس مکان تباہ ہوگئے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے اور یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ ہلاک ہونے والے ایک شخص کا تعلق بھارت سے ہے اور دوسرے کا سوڈان سے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ اس کمپاؤنڈ میں تقریباً دو سو مکان ہیں جن میں بیشتر رہنے والے لبنانی، مصری یا شام کے شہری ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ چند سفارتکاروں نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بیس اور تیس کے درمیان ہے۔ اس رہائشی احاطے کے مینیجر نے کہا ہے کہ کم سے کم ایک سو افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین نے عرب ٹیلی ویژن کو بتایا کہ شہر کے مغربی علاقے میں واقع اس احاطے میں دس مکان تباہ ہوئے اور کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ شاہدین نے کہا کہ انہوں نے دھماکے سے قبل گولیوں کی آواز سنی۔ حملہ آوروں نے احاطے میں داخل ہوتے ہوئے فائرنگ کی۔ احاطے کے ایک رہائشی نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ ’میں نے عورتوں اور بچوں کی چیخیں سنی، میں نے کئی افراد کو زخمی دیکھا اور میرے خیال میں کئی لوگ ہلاک بھی ہوئے ہیں۔‘ سعودی وزارتِ داخلہ نے ان دھماکوں کو دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ اس احاطے کےگیٹ کے قریب ہوا، جس کے بعد دو مزید دھماکے ہوئے۔ علاقے کوگھیرے میں لے کر بند کردیا گیا ہے اور ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں۔ العربیہ ٹی وی کے ایک صحافی کے مطابق دھماکے کار بم کے ذریعے کئے گئے اور چند مکانوں میں آگ لگ گئی ہے۔
امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے قونصل خانے پہلے ہی بند کر دیئے تھے۔ گزشتہ روز امریکی حکام نےخبردار کیا کہ سعودی عرب میں بقول امریکہ دہشت گرد عناصر حملے کرسکتے ہیں۔ امریکی حکام نے کہا تھا کہ انہیں مسلسل یہ اشارے مل رہے ہیں ہے کہ دہشتگرد امریکی اور مغربی ممالک کے مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ مئی میں ریاض میں مغربی باشندوں کے ایک رہائشی احاطے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں پینتیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ مئی کے دھماکوں کے بعد سے سعودی حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں کئی جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے مکہ میں سعودی پولیس نے دو شدت پسندوں کو ایک جھڑپ میں ہلاک کر دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||