| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کارگو طیاروں سے حملہ ہو سکتا ہے‘
واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد بیرون ممالک سے کارگو طیاروں کو اغوا کر کے ان سے امریکہ میں کئی ٹھکانوں پر حملے کریں۔ خطرے کی یہ وارننگ ابھی ایک ذریعے سے امریکیوں تک پہنچی ہے اور اس کی تصدیق ہونا باقی ہے تاہم امریکی حکام اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ مقامی اور ریاستی انتظامیہ کو، اور جو جوہری تنصیبات، پلوں اور ڈیموں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ خطرے کی یہ وارننگ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانہ اور جدہ اور ظہران میں امریکی قونصل خانوں کو بند کرنے کے فیصلہ کے بعد دی گئی ہے۔ امریکی حکومت کے ایک اعلان میں کہا گیا کہ انہیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ دہشت گرد سعودی عرب میں امریکی سفارت خانوں پر حملہ کرنے والے ہیں جس کی وجہ سے سنیچر سے ان سفارت خانوں کی سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس اعلان میں یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ امریکی سفارت خانے کب تک بند رہیں گے۔ امریکی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ہدایت نامے میں کہا گیا کہ انھیں موقر ذرائع سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ دہشت گرد امریکی سفارت خانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی مکمل کر چکے ہیں اور اب وہ انھیں عملی جامہ پہنانے والے ہیں۔ اس ہدایت نامے میں سعودی عرب میں مقیم چالیس ہزار امریکیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ممکنہ حملوں کے پیش نظر خبردار رہیں اور خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں امریکی اور مغربی باشندے زیادہ تعداد میں مقیم ہیں۔ سعودی عرب میں تعینات ایک برطانوی سفارت کار نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ برطانوی سفارت خانے بند نہیں کئے جارہے۔ تین دن قبل سعودی پولیس سے ایک جھڑپ کے بعد دو مبینہ دہشت گروں نے اپنے آپ کو بموں سے اڑا لیا تھا۔ گزشتہ ماہ اسامہ بن لادن نے ایک پیغام میں امریکہ کے اندر اور امریکہ سے باہر امریکی مفادات کے خلاف مزید حملے کرنے کا عہد کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||