’ساڑھی پہنیں، سکرٹ ممنوع ہے‘

،تصویر کا ذریعہSMITI DANIEL
سری لنکا میں لڑکوں کے ایک سکول کے باہر ایک پوسٹر لگایا گیا ہے جس پر خواتین کے لیے ہدایات ہیں کہ وہ سکول میں داخل ہوتے ہوئے کونسے لباس پہن سکتی ہیں اور کونسے لباس ممنوع ہیں۔ اس پوسٹر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر شدید بحث جاری ہے۔ بی بی سی کی عائشہ پریرا بتا رہی ہیں کہ آخر کولمبو میں لوگ اس پوسٹر سے کیوں ناراض ہیں۔
دارالحکومت کولمبو میں اشرافیہ طبقے کے ایک نجی سکول سینٹ جوزف کالج کے باہر آویزاں اس پوسٹر پر بغیر کسی تحریر کے تصاویر بنی ہوئی ہیں۔
اس پوسٹر میں خواتین کے ملبوسات پر مبنی 16 مختلف تصاویر ہیں اور ہر تصویر کے سامنے صحیح یا غلط کا نشان لگا ہوا ہے۔ ایک جانب وہ تصویریں ہیں جن میں خواتین کے بعض مخصوص ملبوسات کو درست بتایا گيا ہے جبکہ دوسری لائن میں جدید طرز کے بعض لباسوں کو غلط ٹھہرایا گيا ہے۔
شاید پہلی نظر میں آپ اس پوسٹر کو یہ سوچ کر نظرانداز کر دیں کہ یہ کسی فیشن میگزین کا کوئی صفحہ ہے۔ لیکن اصل میں اساتذہ سے ملنے یا اپنے بچوں کو لینے کے لیے سکول میں داخلے کے لیے خواتین کے ڈریس کوڈ کا یہ ایک چارٹ ہے۔

اس میں روایتی ساڑھی یا شلوار قیمص اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے کی تو اجازت ہے لیکن منی سکرٹز اور بغیر آستین والے جدید طرز کے لباسوں کو خواتین کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
اس پر بحث اس وقت شروع ہوئی جب کالج کے ایک طالب علم نے اس پوسٹر کی ایک تصویر کو اپنے فیس بک کے صفحے پر پوسٹ کیا۔
سینٹ جوزف کالج میں انتظامی امور سے متعلق ایک افسر نے سکول میں داخل ہونے والی خواتین کے لیے اس طرح کے ڈریس کوڈ کی تصدیق کی ہے۔
اس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ’اگر وہ سکول کے اندر آنا چاہتی ہیں تو انھیں مناسب طریقے سے کپڑے پہننے ہوں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کولمبو کے ہی ایک دوسرے نجی سکول سینٹ پیٹرز کالج نے بھی تصدیق کی کہ ان کے سکول کے باہر بھی اسی طرح کے ڈریس کوڈ کا ایک نوٹس آویزاں ہے۔
اس سکول کے بھی ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اگر خواتین ڈریس کوڈ کے مطابق کپڑے نہ پہنے ہوں تو انھیں سکول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’آخر یہ لڑکوں کا سکول ہے اور ہم نے ایک نوٹس لگا رکھا ہے تاکہ خواتین کو یہ معلوم رہے کہ انھیں کیا پہننا ہے اور کیا نہیں پہننا ہے۔‘

اس پوسٹر سے متعلق سوشل میڈیا پر بعض افراد نے اپنی رائے میں غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
ایک شخص نے لکھا ’بہت خوب۔۔۔۔ اب ہم مناسب طریقے سے پیچھے کی طرف چل پڑے ہیں۔‘
ایک اور شخص نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ سکول کی تمام خواتین سٹاف یا طلبا کی ماؤں کو چاہیے کہ اس کے خلاف بطور احتجاج لنگي یا پھر سوئمنگ سوٹ پہنن کر آنے لگیں۔
بعض والدین نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ سری لنکا میں بعض انٹرنیشنل سکولوں میں بھی خواتین کے لباس کے تعلق سے سختی برتی جاتی ہے اور اگرچہ وہاں پوسٹرز آویزاں نہیں ہیں لیکن اگر کوئی خاتون بغیر آستین والی قمیص پہن کر جائے تو اسے سکول میں داخل ہونے سے منع کر دیا جاتا ہے۔
بعض لوگوں نے اپنے تبصروں ميں اس بات کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ جدید طرز کے بعض لباسوں، جیسے بغیر آستین والی قمیص وغیرہ، پر تو پابندی ہے جبکہ ان روایتی ساڑھیوں کے پہننے کی اجازت ہے جس میں پیٹ یا ناف کا حصہ عموماً نظر آتا ہے۔
یارائی کیلی نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ جینز، ٹائٹ یا بغیر آستین والا لباس پہننا تو منع ہے لیکن روایتی ساڑھی، جس میں پیٹ یا ناف دکھتا ہے، کی اجازت ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ بازو دیکھانا زیادہ معیوب ہے یا پھر پینٹ جینز پہننا؟ یہ پھر اس سلسلے میں مردوں کا ڈریس کہاں ہے؟
سری لنکا میں حکومت کے ماتحت سکولوں میں اس طرح کے ڈریس کوڈ کا ہونا ایک پرانی اور عام بات ہے جہاں خواتین کو صرف ساڑھی پہننے کی اجازت ہے لیکن سینٹ جوزف یا سینٹ پیٹرز جیسے نجی سکولوں میں اس طرح کا طرز ایک نئی چلن ہے۔
اس کی ایک وجہ تو کولمبو میں متوسط طبقے کے بڑھنے کے ساتھ ہی قدامت پرستی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اب اس طرح کے نجی سکولوں نے بھی اپنی باہیں ایسے روایتی طبقے کے لیے بھی کھول دی ہیں۔







