’کشمیری خون گلیوں نالیوں میں بہہ رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں برسرِاقتدار جماعت کے ایک رکنِ پارلیمان، طارق حمید کرا نے کشمیر میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
طارق حمید کرا نے حکومتی پالیسی کو ظالمانہ قرار دیا ہے اور اپنی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ریاستی سطح پر بی جے پی کے ساتھ الحاق پر بھی تنقید کی ہے۔
انھوں نے ریاستی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی بھی چھوڑ دی ہے۔
خیال رہے کہ آٹھ جولائی کو نوجوان کشمیری علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جولائی کے آغاز سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 80 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عید کے موقع پر بھی کشمیر میں انتہائی سخت کرفیو نافذ تھا اور زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔
جمعرات کو طارق حمید کا کہنا تھا کہ ’یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کشمیر میں مسلمانوں کو عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مزار اور جامع مسجد بند کر دیے گئے۔ کشمیری خون وادی کی دیواروں، گلیوں اور نالیوں میں بہہ رہا ہے۔‘
کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف چھروں والے کارتوس بھی استعمال کیے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کے زخمی اور نابینا ہو جانے کی اطلاعات ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اب تک سات ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہی جو چھرے لگنے سے جزوی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کشمیر میں بھارت کے اپنے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق کشمیر میں اب تک 13 لاکھ چھروں والے کارتوس استعمال ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ہی اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی حالیہ ہلاکتوں کی بین الاقوامی تحقیقات کو ضروری قرار دیا ہے۔
انھوں نے متنازع ریاست کشمیر میں اقوام متحدہ کی رسائی کی درخواست پر ہندوستان کی خاموشی پر تاسف کا بھی اظہار کیا ہے۔







