ہم سب کو پاکستان کی مدد کرنی چاہیے: جان کیری
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ پاکستانی شدت پسندی کے ہاتھوں بہت متاثر ہوئے ہیں اور ہم سب کو پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے۔
یہ بات جان کیری نے دہلی میں بدھ کو آئی ٹی کالج میں خطاب میں کہی۔
انھوں نے کہا ’ہم سب کو ان کی مدد کرنی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ شدت پسندی سے بتدریج نمٹنا کتنا مشکل ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ گذشتہ چند ماہ میں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستانی اب تیز رفتاری سے شدت پسندی کے خلاف بڑھ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ان گروپوں کے خلاف سخت کوششیں کرنے کی ضرورت ہے جن کا تعلق انتہا پسندی سے ہے۔
انھوں نے کہا: ’پاکستان کو اپنے ملک کے ان گروپوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔‘
جان کیری انڈیا کے تین روزہ دورے پر پیر کو دہلی پہنچے تھے۔ منگل کو دہلی میں آئی ٹی کالج سے اپنے ایک خطاب کے دوران انھوں نےکہا کہ پاکستان کو ’دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر سرگرم ہیں ایسے انتہا پسندوں سے انڈیا اور افغانستان میں امن اور استحکام متاثر ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جان کیری نے کہا کہ جب ان کی ملاقات پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ہوئی تو اس وقت بھی ان سے لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک جیسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ داعش، القاعدہ، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کوئی بھی لڑائی کسی ایک ملک واحد سے نہیں لڑی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ میں تو اس مسئلے پر بہت محنت سے کام کرتا رہا ہوں۔ میں نواز شریف سے کئی مل چکا ہوں۔ ہم ملک کے مغربی علاقوں میں ان پناہ گاہوں کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں کہ کیسے حقانی نیٹ ورک یا لشکر طیبہ کے خلاف ہم اور موثر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں۔‘
جان کیری کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے اس عمل میں کچھ تیزی دکھائی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے گذشتہ روو انڈین وزیر خارجہ سمشا سوارج سے بھی ملاقات کرنے کے بعد ایک پریش کانفرنس کی تھی۔ اس وقت سشما سوارج نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔







