’قندوز کے اہم ضلعے پر افغان حکومت کا دوبارہ کنٹرول‘

افغان سکیورٹی فورسز ملک کے 34 صوبوں میں سے نصف میں باغیوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغان سکیورٹی فورسز ملک کے 34 صوبوں میں سے نصف میں باغیوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں

افغانستان کے شمالی صوبے قندوز کے گورنر نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے ضلع خان آباد پر سے طالبان کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔

قندوز کے گورنر اسد اللہ عمر خیل نے یہ دعویٰ طالبان کی جانب سے خان آباد پر قبضے کیے جانے کے چند گھنٹے بعد کیا۔

* <link type="page"><caption> قندوز میں طالبان نے 35 مسافر اغوا کر لیے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/05/160531_kunduz_taliban_abduction_sh" platform="highweb"/></link>

* <link type="page"><caption> طالبان کا ’مقاصد کے حصول‘ کے بعد قندوز سے نکلنے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151013_afghan_ghazni_taliban_battle_sz" platform="highweb"/></link>

تاہم مقامی افراد ے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے قریب اب بھی طالبان موجود ہیں۔

اس سے قبل افغانستان میں حکام کا کہنا تھا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے شمالی صوبے قندوز کے ایک اہم ضلعے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

جنگجوؤں نے کئی جانب سے ایک ساتھ حملہ کیا اور حکومتی فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ قندوز گذشتہ برس بھی طالبان کے قبضے میں آ گیا تھا۔

مقامی حکام کا کہنا تھا کہ گولہ بارود اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے خان آباد ضلع طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

سنہ 2014 میں بین الاقوامی فوجوں کے انخلا کے بعد سے طالبان نے ایک بار پھر ملک کے مختلف حصوں میں کئی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز ملک کے 34 صوبوں میں سے نصف میں باغیوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔

چند دن قبل طالبان نے قریبی صوبے بغلان کے ایک ضلعے پر قبضے کر لیا تھا۔

طالبان نے فوجی گاڑیوں اور اسلحے پر بھی قبضے کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطالبان نے فوجی گاڑیوں اور اسلحے پر بھی قبضے کر لیا ہے

خان آباد کے ضلعی منتظم حیات اللہ امیری نے خبر رساں ادارے روئٹرز کوبتایا کہ ’طالبان نے مختلف جگہوں سے حملہ کیا تھا ہم نے کئی گھنٹوں تک مزاحمت کی لیکن ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔‘

خبر رساں ادارے اپ پی کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پورے ضلعے کے علاوہ اسلحے اور فوجی گاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے قندوز کی صوبائی کونسل کے سربراہ محمد یوسف ایوبی کا کہنا تھا ’اگر مرکزی حکومت نے اس طرف توجہ نہ کی تو قندوز شہر بھی گذشتہ برس کی طرح ایک بار پھر طالبان کے قبضے میں چلا جائے گا۔ ‘