انڈیا کے پستہ قد بچے

یہ بچے اپنی عمر کے لحاظ سے بڑھنے سے قاصر رہے

،تصویر کا ذریعہWATERAID RONNY SEN

،تصویر کا کیپشنیہ بچے اپنی عمر کے لحاظ سے بڑھنے سے قاصر رہے

ایک رضا کار ادارے واٹر ایڈ کی نئی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈیا میں عمر کے مطابق نہ بڑھ پانے والے بچوں کی دنیا سب سے زیادہ تعداد ہے۔

’کاٹ شارٹ‘ یعنی قد میں چھوٹے پائے گئے نام سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں پانچ سال سے کم عمر کے کم از کم پونے پانچ کروڑ بچے ہیں جو عمر کے لحاظ سے اپنی لمبائی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

نائجیریا اور پاکستان اس معاملے میں بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ نائجیریا میں ایک کروڑ تین لاکھ بچے عمر کے لحاظ سے بڑھنے سے قاصر رہے جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 98 لاکھ ہے۔

انڈیا میں پینے کے صاف پانی کی کمی ہے

،تصویر کا ذریعہImage copyrightWATERAID RONNY SEN

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں پینے کے صاف پانی کی کمی ہے

بچوں میں قد کا مناسب وقت پر نہ بڑھنا یا جسمانی نشونما میں کمی رہ جانا پہلے دو سال میں غذا کی کمی کا نتیجہ ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

غذائیت کی کمی کے اسباب میں خوراک کی کمی کے ساتھ صفائی ستھرائی کی کمی اور آلودہ پانی بھی شامل ہے اور اس کی وجہ سے بچوں کی افزائش متاثر ہوتی ہے۔

مناسب خوراک اور غذائیت کی کمی اس کا اہم سبب ہے

،تصویر کا ذریعہWATERAID RONNYSEN

،تصویر کا کیپشنمناسب خوراک اور غذائیت کی کمی اس کا اہم سبب ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بیت الخلا کی کمی، صاف پینے کے پانی اور سفائی ستھرائی کی عادت کی کمی بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے سبب بار بار دست کا حملہ ہوتا ہے جو کہ آلودہ پانی اور غیر صحت مند ماحول کا نتیجہ ہے اور یہ براہ راست غذائیت کی کمی سے منسلک ہیں۔‘

عمر کے لحاظ سے قد کا نہ بڑھ پانا عمر کے ابتدائی دو سالوں میں بار بار دست آنےکا براہ راست نتیجہ ہے۔

مناسب سفائی ستھرائی کی کمی بھی اس کا سبب ہے

،تصویر کا ذریعہWATERAID RONNYSEN

،تصویر کا کیپشنمناسب سفائی ستھرائی کی کمی بھی اس کا سبب ہے

انڈیا میں ساڑھے سات کروڑ سے زیادہ افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔

جبکہ تقریبا ساڑھے 77 کروڑ افراد کو رفع حاجت کے لیے مناسب سہولت میسر نہیں۔ انڈیا میں ڈائریا یعنی اسہال کے سبب ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

مناسب رفع حاجت کے انتظام کی بھی کمی ہے

،تصویر کا ذریعہWATERAID RONNYSEN

،تصویر کا کیپشنمناسب رفع حاجت کے انتظام کی بھی کمی ہے

کھلے میں رفع حاجت کرنا انڈیا میں صحت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

واٹر ایڈ میں صحت اور صفائی ستھرائی کے معاملے کے تجزیہ نگار میگن ولسن جونز کا کہنا ہے کہ کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد انڈیا میں ہے اور یہاں تقریبا نصف ارب آبادی کھلے میں رفع حاجت کرتی ہے جس سے خطرناک بیماریاں پھیلتی ہیں اور ان کی وجہ سے بچوں میں اسہال اور دوسرے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انڈیا کی تقریبا نصف ارب آبادی کھلے میں رفع حاجت کرتی ہے

،تصویر کا ذریعہWATERAID RONNYSEN

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی تقریبا نصف ارب آبادی کھلے میں رفع حاجت کرتی ہے

گذشتہ چند برسوں کے دوران انڈیا میں بچوں کی نشو نما میں بہتری آئی ہے۔ سنہ 2006 میں تقریباً 48 فی صد بچے اپنی عمر کے لحاظ سے بڑھنے سے قاصر تھے جبکہ یہ شرح سنہ 2014 تک کم ہو کر 39 فی صد رہ گئی ہے۔

انڈیا میں ڈیڑ لاکھ بچے سالانہ اسہال سے ہلاک ہو جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہWATERAID RONNYSEN

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں ڈیڑ لاکھ بچے سالانہ اسہال سے ہلاک ہو جاتے ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کی ترجیحات میں صاف پینے کے پانی اور مناسب صفائی ستھرائی کی فراہمی کو شامل کیا ہے۔