انڈیا میں چائلڈ لیبر کے قانون پر فیکٹری مالکان خوش کیوں؟

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, سنجوائے مجمدار
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
میں بھارت کی دارالحکومت دہلی میں ایک بڑی کچی آبادی کے ایک مقامی سکول کا دورہ کر رہا ہوں۔
ادھر بچے اونچی آوازوں میں حروف تہجی یاد کر رہے ہیں۔
لیکن سکول کے قریب ہی ایک مختلف منظر دکھایا دیتا ہے۔
سکول کے ساتھ ہی تنگ گلیوں میں کچھ چھوٹے مکانات واقع ہیں جن میں سے ایک میں زمین پر بیٹھی خواتین نظر آتی ہیں جو بادام چھیل رہی ہیں۔
ان خواتین کے ساتھ کئی بچے بھی بیٹھے ہیں جو میوہ جات کے چھلکے اتار کر انھیں باداموں کے ساتھ ڈال رہے ہیں۔
لیکن اس گھر میں جھانکنے پر ایک شخص میرا راستہ یہ پوچھتے ہوئے روک لیتا ہے کہ مجھے کیا چاہیے۔
جب میں اسے کہتا ہوں کہ میں صحافی ہوں تو وہ مجھے یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکال دیتا ہے کہ مجھے یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس محلے کے کئی گھروں میں باداموں کے چھلکے اتارنے والی فیکٹریاں قائم ہیں اور یہاں سے کئی اقسام کے چھوٹے کاروبار چلائے جاتے ہیں۔
ادھر لوہار، فرنیچر ساز، کپڑے سلائی کرنے والے اور زیورات بنانے والے کام کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارتی پارلیمان نے بچوں سے کام کروانے پر ایک نیا اور متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 14 سال کی عمر سے کم بچوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
لیکن اس قانون کی ایک شق کے مطابق بچے سکول کے بعد یا چھٹیوں کے دوران اپنے خاندانی کاروبار کے علاوہ کھیلوں اور تفریحی کی صنعتوں میں کام کر سکتے ہیں۔
راجندر نامی ایک فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت ہی اچھی خبر ہے۔ پہلے میں صرف 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو کام پر رکھ سکتا تھا۔ لیکن اب میں زیادہ لوگوں کو رکھ سکتا ہوں۔ویسے بھی، بچے کم پیسے لیتے ہیں۔‘
راجندر کہتے ہیں ’میں اپنے ملازمین کو روزانہ 300 روپے دیتا ہوں۔ لیکن ایک کم عمر ملازم کو میں روزانہ صرف 100 روپے دیتا ہوں جو کافی بڑی بچت ہے۔

راجندر کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ بچوں کو کام کرنے کی اجازت صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے اگر وہ اپنے خاندان کے ساتھ کام کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ایک خاندان حاصل کرنا کتنی مشکل بات ہے؟ یہ کوئی بڑا مسئلہ تو نہیں ہے۔‘
اسی بات پر بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اور نئے قانون کے ناقدین کو خدشہ ہے، کہ اس قانون کا فائدہ اٹھایا جائے گا بلکہ مزید بچوں کو سکول سے نکال کر کام پر لگا دیا جائے گا۔
برطانوی خیراتی تنظیم ’سیو دا چلڈرن‘ کی ڈائریکٹر بدیشہ پلئی کہتی ہیں کہ ’ایک خاندان کیا ہوتا ہے اس کا کوئی واضح معنی بھی تو نہیں ہے۔ اس میں صرف ماں باپ نہیں ہیں، چاچا، یا انکل آنٹی، یا بھائی بہن بھی تو شامل ہو سکتے ہیں۔‘
بدیشہ کہتی ہیں کہ اس نئے قانون سے کئی صنعتوں کو حوصلہ افزائی ملے گی کہ وہ اپنے گھروں کو فیکٹریوں میں بدل دیں جس کی وجہ سے نگرانی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPacific Press
لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کو بناتے وقت اسے نے بچوں کو حفاظت دینے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت پر بھی غور کرنا پڑا تھا کہ کروڑوں غریب خاندان اپنے بچوں کی تنخواہوں پر انحصار کرتے ہیں۔
ان میں سے کئی خاندان کاشت کاری یا محنت مزدوری کرتے ہیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو ان صنعتوں میں کام کرنے سے روایتی مہارت حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔
بھارتی معیشت پر لکھنے ولے مبصر گرچارن داس کی طرح کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ محض قوانین سے بچوں کی مزدوری نہیں رک سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’ طویل مدتی جواب اقتصادی ترقی ہے۔ انڈیا میں 15 سال سے ترقی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اگر ہم مزید 15 سالوں تک اس ترقی کو برقرار رکھیں تو میرے خیال میں ہم بنیادی طور پر بچوں کی مشقت کو ختم کر سکتے ہیں۔‘
آپ کو انڈیا بھر میں اکثر بچے کام کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔
ٹریفک سگنلز پر پھول بچتے ہوئے یا پھر گھروں میں ملازمین بن کر۔
دیگر بچے چھوٹے ریستوران یا چائے کے ڈھابوں میں ویٹر ہوتے ہیں۔
اور وہ بچے جو کسی کو نظر نہیں آتے، جو فیکٹریوں، کاشت کاری یا بارودی سرنگوں میں کام کرتے ہیں۔
اس نئے قانون سے بچوں سے کام کروانے کا عمل شاید ہی ختم ہو۔
امید ہے کہ کم از کم اسے کسی ضابطے کے تحت لایا جائے گا۔خدشہ یہ ہے کہ یہ عمل الٹا بڑھ بھی جا سکتا ہے۔







