ایران کے جوہری سائنسدان کو ’پھانسی‘ دے دی گئی

شاہرم امیری سنہ 2010 میں امریکہ سے ایران واپس آنے کے بعد سے قید میں تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشاہرم امیری سنہ 2010 میں امریکہ سے ایران واپس آنے کے بعد سے قید میں تھے

ایران کے جوہری سائنسدان شاہرم امیری کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھیں پھانسی دے دی گئی ہے۔

ایرانی سائنسدان سنہ 2010 سے ایران میں قید تھے۔

شاہرم امیری کی والدہ کا کہنا ہے کہ اُن کے بیٹے کا جسد خاکی اُن کے آبائی علاقے بھجوایا گیا ہے اور اُن کی گرد پر موجود رسی کے نشانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انھیں پھانسی دی گئی ہے۔

شاہری امیری کو امریکہ سے واپس ایران آنے کے بعد خفیہ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا جہاں انھیں نے حکام کو بتایا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی نے انھیں جبری طور پر حراست میں رکھا تھا۔

بعض اطلاعات کے مطابق امیری کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مکمل معلومات تھیں۔

شاہرم امیری سنہ 1977 میں پیدا ہوئے تھے اور سنہ 2009 میں مکہ جانے کے بعد وہ لا پتہ ہو گئے تھے۔

جس کے ایک سال کے بعد وہ امریکہ سے ملے، اُن کا کہنا تھا کہ انھیں سی آئی اے نے اغوا کیا تھا اور ’جوہری راز افشاں کرنے کے لیے اُن پر بہت دباؤ‘ ڈالا گیا۔

شاہرم امیری سنہ 2010 میں امریکہ سے ایران واپس آنے کے بعد سے قید میں تھے۔

بظاہر امریکہ میں بنائی گئی ایک ویڈیو میں شاہری امیری نے کہا کہ ’وہ مجھے کسی نامعلوم علاقے کے ایک مکان میں لے گئے۔ انھوں نے مجھے بے ہوش کرنے والا انجیکشن لگایا۔‘

ایک دوسری ویڈیوں میں انھوں نے امریکہ کی حراست سے فرار ہونے کا دعوی کیا۔

امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھوں نے امریکہ کو ’اہم معلومات‘ دیں ہیں۔

امریکہ سے تہران وآپس آنے پر انھیں قید کی سزا دی گئی تھی۔

اُن کے خاندان نے بی بی سی بات چیت میں شاہری آمیری کی قید کی تصدیق کرتے ہوئے اُن کے زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔