ایران میں چار صحافیوں کو قید کی سزا دینے کی مذمت

صحافیوں کو اپنی سزاؤں کے خلاف 21 روز کے اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصحافیوں کو اپنی سزاؤں کے خلاف 21 روز کے اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے

صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایران میں چار صحافیوں کو پانچ سے دس برس تک قید کی سزا دیے جانے کی مذمت کی ہے۔

ایران میں چاروں صحافیوں کو ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے سمیت دیگر الزامات میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔

ان صحافیوں کو گذشتہ نومبر میں قدامت پسندوں کے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران میں فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل فنکاروں، لکھاریوں اور ثقافت کے لیے کام کرنے والے کئی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ایرانی نیوم ایجنسی تسنیم کے مطابق ان صحافیوں کو منگل کے روز تہران کی ایک عدالت نے اسلامی جہموریہ ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے، ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے، غیر ملکی حکومتوں سے رابطے کرنے سمیت متعدد الزامات میں قصوروار ٹھہرایا۔

ایران کی لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق ان چاروں صحافیوں پر’امریکی رسائی کے لیے ملک میں راستہ ہموار‘ کرنے کا الزام ہے اور انھیں پاسداران انقلاب کے خفیہ یونٹ نے سینیئر صحافی عیسیٰ سحرخیز سمیت گرفتار کیا تھا۔

ایرانی صدر نے بھی صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایرانی صدر نے بھی صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کی تھی

چاروں صحافیوں کو اپنی سزاؤں کے خلاف 21 روز کے اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے عہدیدار شیرف منصور نے کہا ہے کہ ایرانی حکام صحافیوں کو قید کی سزائیں دینے کا سلسلہ بند کریں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں پر’ ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے کا الزام‘ ملکی قوانین کی تبدیل کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے جن کے تحت میڈیا کے کارکنوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور انھیں جیل بھیجا جاتا ہے۔

صدر حسن روحانی نے بھی صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کی تھی اور اپنی متعدد تقاریر میں میڈیا کی زیادہ آزادی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔