’ہندوؤں کے گناہ کی وجہ سے ہم بیف کھا رہے ہیں‘

دلت نوجوانوں کی سرعام پٹائی کے بعد دلت برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندلت نوجوانوں کی سرعام پٹائی کے بعد دلت برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

’ہندوؤں کے گناہ کی وجہ سے ہی دلت سماج مردہ گائے یا مرے جانوروں کا گوشت کھانے پر مجبور ہے۔‘

یہ بات انڈین ریاست گجرات کے سریندر میں ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر مردہ گائیں پھینک کر غصہ ظاہر کرنے والے دلت کارکن نٹو بھائی پرمار نے بی بی سی ہندی سے بات چیت میں کہی۔

نوسرجن ٹرسٹ سے منسلک نٹو بھائی پرمار وہ دلت کارکن ہیں جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کلکٹر کے دفتر کے باہر مردہ گائیں پھینکنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جنوبی گجرات کے موٹے سمادھيالا گاؤں میں کچھ دن پہلے چمڑے کے ایک کارخانے میں مری ہوئی گائے کی چمڑی اتارنے پر پر چار دلت نوجوانوں کی سرعام پٹائی کی گئی۔

تبھی سے دلت کمیونٹی میں غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

’آج بھی گجرات میں دلتوں کی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن’آج بھی گجرات میں دلتوں کی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے‘

اس کی مخالفت میں 18 جولائی کو سریندر ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر مری ہوئی گائیں پھینک کر دلت کمیونٹی نے اپنے غصے کا ایک نئے طریقے سے اظہار کیا۔

یہ مخالفت کا پرامن مگر ساتھ ہی مشتعل طریقہ تھا جسے بھارت کے دلت تحریک میں ایک نیا اعتماد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نٹو بھائی پرمار نے بی بی سی سے کہا کہ ’مری گائے کا گوشت کھانے کی روایت ہم نے شروع نہیں کی تھی۔ صدیوں سے ہمارے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہوتا رہا ہے. ہمیں گاؤں کے باہر رکھا جاتا تھا. جو اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں، انھی کے گناہ کی وجہ سے ہمارے باپ دادا اور ہم آج بھی مری ہوئی گائے یا مردہ جانوروں کے گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہندو قوم کی بات کرنے والے، دلتوں کو صرف تعداد بڑھانے کے لیے ہندو کہتے ہیں، پر دراصل انھیں ہندو نہیں مانتے۔

پرمار نے کہا کہ ہندو قوم کی ذات کے نظام میں دلت سب سے نیچے کی نشان پر ہیں۔

پرمار نے کہا کہ’امیتابھ بچن کو کچھ ہوتا ہے تو وزیراعظم نریندر مودی فوری طور پر ٹویٹ کرتے ہیں، پر اتنی بڑی واردات ہوگئی اور انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ خاموش ہیں۔‘

ضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے مری گائے پھینکنے پر نٹو بھائی پرمار کہتے ہیں کہ ’ریلی کی اجازت لیتے وقت ہم نے انتظامیہ سے دس گاڑیوں کو جلوس میں رکھنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن انھیں یہ نہیں بتایا کہ ان گاڑیوں میں مری ہوئی گائیں ہوں گی۔ ہم نے بہت سے دیہات سے مری گائیں منگوا کر انھیں کمپاؤنڈ کے سامنے پھینک دیا۔‘

احتجاج کے طور پر 30 سے زیادہ دلت افراد نے خودکشی کی کوشش کی ہے
،تصویر کا کیپشناحتجاج کے طور پر 30 سے زیادہ دلت افراد نے خودکشی کی کوشش کی ہے

پرمار کہتے ہیں کہ ’دلتوں نے کہا کہ ہزاروں سال سے مری گائے کی کھال نکال کر چمڑے بنانے کا کام اب وہ نہیں کریں گے اور یہ کام اب شیو فوجیوں کو کرنے کو کہا جائے۔‘ نٹو بھائي کہتے ہیں کہ ’آج بھی گجرات میں دلتوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ہمیں مندروں میں داخلہ نہیں ملتا، ہمارے بچوں کو الگ سے بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے، عوامی مقامات پر ہم نہیں جا سکتے۔ کئی مقامات پر اس کے خلاف فریاد کی، لیکن ایسا کرنے پر بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔‘

نٹو بھائی مانتے ہیں کہ مندروں میں داخلے کا حق حاصل کرنے سے بھی ان کا کوئی بھلا نہیں ہوگا لیکن وہ سوال کرتے ہیں کہ ’جب مساوی حقوق ہیں تو مندر میں رسائی کا حق کیوں نہیں دیا جاتا؟ ہندوؤں میں تو ہم آخری نمبر پر ہیں. گائے کا گوشت کھانے کی روایت ہم نے تو طے نہیں کی تھی، یہ تو ذات پات کے نظام کا نتیجہ ہے. ہمیں یہ روایت پسند نہیں ہے۔‘