بنگلہ دیش میں ذاکر نائیک کے ٹی وی چینل پر پابندی

،تصویر کا ذریعہPeace Tv
بھارت کے متنازع اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کے ٹی وی چینل ’پیس ٹی وی‘ پر بنگلہ دیش کی حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔
بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیر صنعت امير حسین امو کی صدارت میں اتوار کو ہونے والے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
عامر حسین امو نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں نمازِ جمعہ کے دوران دیے جانے والے خطبوں کی بھی نگرانی کی جائے گی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اشتعال انگیز خطبے تو نہیں دیے جا رہے۔
پیس ٹی وی پر پابندی کا فیصلہ ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے جن کے مطابق ڈھاکہ میں گذشتہ دنوں ایک کیفے پر حملہ کرنے والے ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔ خیال رہے کہ ڈھاکہ میں کیفے پر شدت پسندوں کے حملے میں غیر ملکیوں سمیت 28 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت نے سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں تمام ریاستوں کو یہ ہدایت جاری کی ہیں کہ جن جن ٹی وی چینلز کو بھارت میں نشریات کی اجازت نہیں ہے ان کو کیبل آپریٹر نہ دکھائیں۔
بھارتی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی پر ایسا مواد نشر کرنے کی اطلاعات ہیں جن سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور شدت پسندی بڑھنے کا خطرہ ہے۔
بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کا ’ کئی نجی سیٹلائٹ ٹی وی چینلز جیسا کہ ’پیس ٹی وی‘ پر اس طرح کا مواد نشر کیے جانے کی اطلاعات ہیں جسے نشر کرنے کی اجازت نہیں ہے، ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ کیبل آپریٹرز کو ایسے چینل دکھانے سے روکیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت کی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ملک کے معروف اسلامی سکالر اور مبلغ ذاکر نائیک کی مبینہ قابل اعتراض تقاریر کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر ضرورت ہوئی تو کارروائی کی جائےگي۔







