’اماں کینٹین‘ میں تین روپے کا کھانا

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں وزیر اعلیٰ جے للتا کی ’اماں کینٹین‘ غریبوں اور متوسط طبقے میں بہت مقبول ہے کیونکہ یہ ہزاروں افراد کو سستے کھانے فراہم کرتی ہے۔ بی بی سی کی گیتا پانڈے نے چنئی (مدراس) کی ایک کینٹین کا دورہ کیا اور کھانے کے نمونوں کا جائزہ لیا ہے۔
ریاستی دارالحکومت چنئی کے ذرا باہر پلاورم شہر میں دوپہر کے چند منٹ بعد میں ایک قطار میں لگ گئی جو کہ ’اماں کینٹین‘ پر لنچ کے لیے لگی تھی۔
آج کے کھانے میں گرم گرم سانبھر چاول اور دہی چاول تھے۔ سانبھر چاول محض پانچ روپے میں دستیاب تھے جبکہ دہی چاول صرف تین روپے میں دیے جا رہے تھے جوکہ کسی بھی ریستوران میں ملنے والے کھانے کی قیمت کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہو سکتے ہیں۔
میں بہت بھوکی تھی اس لیے میں نے سانبھر چاول اور دہی چاول دونوں کی ایک ایک پلیٹیں خریدیں اور کمرے کے درمیان ایک میز کے گرد بیٹھ گئی۔

سانبھر چاول میرے جیسے کسی شمالی ہندوستانی کے لیے زیادہ مصالحے دار تھا۔
اگر آپ بہت اچھے کھانے کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ جگہ آپ کے لیے نہیں ہے۔
گرمی اور حبس پریشانی کا سبب ہو سکتے ہیں لیکن میرے ساتھ کھانے والے غریب جن میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے مزدور، گھروں میں کام کرنے والی ملازمائیں، کالج کے طلبہ، متوسط طبقے سے آنے والے دفاتر کا عملہ شامل تھا وہ اس کی شکایت نہیں کر رہے تھے۔

کھانا کافی تھا اور لوگ اسے ’ذائقے دار‘ بتا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لکشمی جو کہ ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں وہ یہاں مستقل آتی ہیں۔
انھوں نے بتایا: ’پہلے میرے مالکان مجھے بچا ہوا کھانا دیتے تھے لیکن اب میں یہاں، ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانوں کے لیے آتی ہوں۔ 20 روپے سے کم میں ہم تین وقت کا کھانا یہاں کھا لیتے ہیں۔‘

اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یہ کھانا واقعی اچھا ہے۔ مجھے تمام قسم کے کھانے پسند ہیں۔ میں شکم سیر اور خوش ہوں۔‘
- ناشتہ صبح سات سے دس بجے تک ملتا ہے جس میں اڈلی ایک روپے میں اور پونگل چاول پانچ روپے میں ملتا ہے۔
- دوپہر کا کھانا بارہ سے تین بجے تک، جس میں سانبھر چاول، یا لیموں چاول یا کری پتا چاول پانچ روپے میں اور دہی چاول تین روپے میں ملتے ہیں۔
- رات کا کھانا شام پانج بجے سے ساڑھے سات بجے تک، جس میں دو روٹی اور دال تین روپے میں دستیاب ہے۔

تعمیراتی کام کرنے والے پنجاب کے ایک مزدور راجو کو ان کے ساتھیوں نے اس کینٹین کے بارے میں بتایا۔
وہ کہتے ہیں: ’میں روزانہ 400 روپے کماتا ہوں۔ اس کینٹین میں آنے سے قبل میں کم از کم 150 روپے کھانے پر خرچ کر دیتا تھا۔ اب صرف 20 روپے میں کام چل جاتا ہے۔‘
یہ کینٹین پہلے پہل سنہ 2013 میں وزیراعلیٰ جے للتا نے شروع کی تھی جنھیں لوگ عرف عام میں ’اماں‘ کہتے ہیں اور اسی لیے اس کینٹین کا نام ’اماں کینٹین‘ ٹھہرا اور اس کا مقصد عوام کو کم قیمت پر کھانا فراہم کرنا تھا۔

آج ریاست میں اس طرح کے 300 سے زیادہ مراکز ہیں اور ان میں سے نصف تو صرف چنئی میں ہیں۔
جے للتا کی پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے کی ترجمان سی آر سرسوتی نے کہا: ’کھانے حفظان صحت کا خیال رکھتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ اچھی طرح پکے ہوئے اور ذئقہ دار ہوتے ہیں۔
’ہماری وزیر اعلیٰ نے عوام کو اچھے اور سستے کھانے فراہم کرنے کے لیے اس کی بنیاد رکھی۔ اس سے ہزاروں خواتین کو ملازمت بھی ملی ہے۔ یہ کینٹینیز خواتین کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔‘

اور اس سکیم کا جے للتا کو فائدہ بھی ہوا ہے۔
ان کینٹینز سے جہاں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے کھانے کے اخراجات میں زبردست کمی آئي ہے وہیں خواتین کو روزانہ کے پکانے اور صفائی کرنے کے مشکل کام سے نجات بھی ملی ہے اور انھوں نے ووٹ کے روپ میں اس احسان کا بدلہ چکایا ہے۔
اس سکیم کے ایک سال بعد ہونے والے انتخابات میں جے للتا کی پارٹی نے 39 پارلیمانی سیٹوں میں سے 37 پر کامیابی حاصل کی جبکہ رواں سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی دوبارہ حکومت میں آئی ہے اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کینٹین کا اس میں اہم کردار رہا ہے۔

کینٹین میں مجھے دو نوجوان لڑکیاں ایس شویتا وار ایس پوترا ملیں جو کہ ایک ٹیلیفون شو روم میں سیلز گرل کی نوکری کرتی ہیں۔
وہ پہلی بار اماں کینٹین میں آئی تھیں اور اسے یادگار بنانے کے لیے وہ کھانے کے ساتھ سیلفی لے رہی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی تصاویر کو فیس بک پر پوسٹ کریں گی۔
شویتا نے کہا: ’یہ عظیم پہل ہے۔ کہاں کسی غریب کو پانچ روپے میں بھر پیٹ کھانا ملتا ہے۔ ہم اماں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
معرف کہاوت ہے کہ کسی مرد اور شاید اب عورت کے بھی دل کا راستہ پیٹ سے گزرتا ہے اور جے للتا کو اس کا مکمل علم ہے۔








