’انڈین غلط بغدادی سے رابطے کر رہے ہیں‘

ایاد البغدادی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جو لوگ انھیں ابوبکر البغدادی سمجھ کر میل بھیج رہے ہیں ان میں سے بہت سارے لوگوں کا تعلق انڈیا سے ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایاد البغدادی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جو لوگ انھیں ابوبکر البغدادی سمجھ کر میل بھیج رہے ہیں ان میں سے بہت سارے لوگوں کا تعلق انڈیا سے ہے

انڈیا کے معروف انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ میں جمعرات کو ایک دلچسپ خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق’شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے خواہشمند بھارتی نوجوان ’غلط بغدادی‘ کو ای میل بھیج رہے ہیں۔‘

اخبار نے لکھا ہے کہ اس بارے میں بھارتی ایجنسیاں مزید معلومات جمع کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ اس سلسلے میں کارروائی کی جا سکے۔

اخبار کے مطابق فلسطین میں پیدا ہونے والے ’عرب بہار‘ کے لیے معروف کارکن اياد البغدادی متحدہ عرب امارات کے شہری ہیں۔ اب انھوں نے ناروے میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔

لوگ انھیں دولت اسلامیہ کے رہنما ابو بکر البغدادی سمجھ کر بہت سی ای میلز بھیج رہے ہیں اور اسلامی سٹیٹ میں شامل ہونے کے طور طریقے کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔‘

اس سلسلے میں ایاد البغدادی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جو لوگ انھیں ابوبکر البغدادی سمجھ کر میل بھیج رہے ہیں ان میں سے بہت سارے لوگوں کا تعلق انڈیا سے ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اس بارے میں بھارتی ایجنسیاں مزید معلومات جمع کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ اس سلسلے میں کارروائی کی جا سکے

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشناخبار نے لکھا ہے کہ اس بارے میں بھارتی ایجنسیاں مزید معلومات جمع کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ اس سلسلے میں کارروائی کی جا سکے

انھوں نے اپنے ٹویٹ میں یہ بھی پوچھا ہےکہ’ کوئی بتائے کہ دولت اسلامیہ سے منسلک ہونے کی خواہش رکھنے والے ان لوگوں کی میں کس سے شکایت کروں؟‘

اخبار کا کہنا ہے کہ انڈیا کی خفیہ ایجنسیز ایسے سینکڑوں لوگوں کی آن لائن پہلے ہی سے نگرانی کرتے رہے ہیں جو دولت اسلامیہ سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس کے مطابق اس نئی معلومات کے بعد وہ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ایاد البغدادی سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایاد البغدادی کی ٹویٹز کے بعد ممبئی کی پولیس نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں ایاد البغدادی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو نوٹس میں لانے کے لیے وہ ان کے مشکور ہیں۔

اخبار کے مطابق ایجینسیز کا کہنا ہے کہ جب تک اس طرح کی ای میلز کا جائزہ نہ لیا جائے اور یہ پتہ نہ ہو کہ اس کا مواد کیا ہے تب تک کارروائی کرنا آسان نہیں ہے۔