’کسی خاص ملک کی این ایس جی میں رکنیت کے خلاف نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں ان ممالک کی شمولیت کے خلاف ہے جنھوں نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی کی توثیق نہیں کی۔

انھوں نے یہ بات اتوار کو ایک سوال کے جواب میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا اجلاس این ایس جی کے سربراہ ارجنٹائن کے سفیر کی صدارت میں نو جون کو ہوا تھا، تاہم اس میں ان ممالک کی شمولیت کے بارے میں بحث نہیں ہوئی جنھوں نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی توثیق نہیں کی۔

اس اجلاس میں این ایس جی کے سربراہ نے کہا کہ اس اجلاس کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور اس کا مقصد تمام ممالک سے این ایس جی کے ارکان میں اضافے کے بارے میں رائے لینا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNSG

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ چند ممالک جو این پی ٹی کا حصہ نہیں ہیں، وہ بھی این ایس جی میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں، لیکن اس سلسلے میں ’چین کا موقف ہے کہ اس پر سیر حاصل بحث کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہا تھا کہ این پی ٹی سیاسی اور قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ’چین کا موقف تمام ان ممالک پر لاگو ہوتا ہے جو این پی ٹی کا حصہ نہیں ہیں اور یہ کسی خاص ملک کو ہدف نہیں بناتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ این ایس جی میں بہت سے ممالک چینی موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ممالک جو این پی ٹی کا حصہ نہیں ہیں ان کو این ایس جی میں شامل کرنے کے حوالے سے کچھ بات چیت ہوئی ہے لیکن این ایس جی کے رکن ممالک اس معاملے پر متفق نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے جوہری تجارت کرنے والے ممالک کے گروپ میں شمولیت کے لیے باضابطہ درخواست دے رکھی ہے۔

انڈیا بھی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں رکن کے طور پر شمولیت کا خواہاں ہے۔