بجرنگ دل کے’سیلف ڈیفنس‘ کیمپ میں کیا ہوتا ہے؟

- مصنف, نتن سری واستو
- عہدہ, بی بی سی ہندی
نیپال کی سرحد سے ملحق بھارتی ریاست اتر پردیش کے اس علاقہ میں اس وقت شدید گرمی ہے۔
سدھارتھ نگر ضلعے کے پانچ ایکڑ کیمپس والے ایک سکول کی بلند دیواروں کے احاطے میں تقریباً 100 لڑکے ’کسی حملہ آور‘ سے لاٹھیوں اور چاقوؤں سے نمٹنے کا ہنر سیکھ رہے ہیں۔
٭ <link type="page"><caption> وارانسی میں ہندو خواتین کی مسلح تربیت</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/05/160530_vhp_armed_training_for_women_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
پاس ہی آگ کی ایک دیوار تیار کی جا رہی ہے اور پچاس لڑکوں کا ایک دوسرا گروپ باری باری چھلانگ لگا کر اس کے پار جاتا ہے جس میں بعض زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔
ان میں سے درجن بھر لڑکے منہ میں مٹی کا تیل ڈال کر لے کر آگ کے گولے چھوڑنے کا خطرناک کرتب پیش کرتے ہیں، اور ہوا میں ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے گونج اٹھتے ہیں۔
اس دیکھنے کے لیے تقریباً 100 مہمانوں بھی موجود ہیں جن میں خواتین بھی ہیں جو کچھ فاصلے پر بیٹھ کر ہر شو کے بعد پرجوش انداز میں تالی بجاتے ہیں۔
یہ کسی فوج کا ٹریننگ کیمپ نہیں ہے بلکہ یہ سخت گیر ہندو تنظیم بجرنگ دل کی طرف سے منعقد کیا جانے والا متنازع ’سیلف ڈیفنس‘ یا ذاتی دفاع کا تربیتی کیمپ ہے۔

بجرنگ دل ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے زمانے میں بحث کا موضوع تھا۔ یہ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی نوجوانوں کی شاخ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وی ایچ پی کے سینیئر لیڈر امبريش سنگھ کہتے ہیں: ’ہم چاہتے ہیں کہ ہندو کسی بھی موقعے کے لیے تیار رہیں۔ سرحد پر واقعی خطرہ بہت زیادہ ہے لیکن ملک کے اندر بھی کوئی کم خطرہ نہیں ہے۔‘
ایک ہفتے تک چلنے والے اسی طرح کے چھ کیمپ اتر پردیش ریاست کے مختلف شہروں میں منعقد کیے گئے ہیں جن میں سے ایک تو بھارتی دارالحکومت دہلی سے متصل نوئیڈا میں تھا۔
ہر کیمپ میں سینکڑوں نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے زعفرانی رنگ کا لباس میں تربیت کرنے والی ٹیم ہوتی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ یہ جسمانی مشق ’دشمن‘ سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔
اگرچہ وہ دشمن کا نام بتانے یا ان کی وضاحت کرنے سے گریز کرتے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے: ’جو بھی ہندوؤں کو دباتا ہے، دشمن ہے۔‘

ہندو کمیونٹی کے نوجوان لڑکے محض 100 روپے کی فیس دے کر اس کیمپ میں شامل ہو سکتے ہیں اور ایک ہفتے بعد جب ٹریننگ پوری ہوتی ہے اس کے بعد انھیں کیمپ سے جانے دیا جاتا ہے۔
اس کیمپ میں موبائل فون پر پابندی ہے۔ مشق صبح پانچ بجے شروع ہو جاتی ہے اور سورج ڈوبنے تک جاری رہتی ہے۔ اس سخت مشق سے بچے تھک کر چور ہو جاتے ہیں۔
وی ایچ پی کی خواتین شاخ ’درگا واہنی‘ وزیراعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے میں اسی طرح کا کیمپ لڑکیوں کے لیے منعقد کر چکی ہے۔
ٹریننگ کے لیے آنے والی ایک خاتون سشما سونکر نے بی بی سی کو بتایا: ’صرف لاٹھی چلانا ہی کافی نہیں ہے۔ رائفل چلانے میں میری زیادہ دلچسپی ہے۔‘
بعض حلقوں کے مطابق یہاں لوگوں کو یہاں زبردستی لایا جا رہا ہے لیکن کیمپ کے منتظمین اس سے انکار کرتے ہیں۔
ان کے مطابق: ’ہم سب سے پہلے ان کے ماں باپ سے رضامندی لیتے حاصل کرتے ہیں۔‘

’سیلف ڈیفنس‘ کے ان کیمپوں پر تنازع اس وقت اٹھ کھڑا ہوا تھا جب ایودھیا میں اسلحے کی تربیت لینے والے رضاکاروں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔
اس ویڈیو میں کچھ ہندو رضاکاروں نے مسلم نوجوانوں کی طرح ٹوپی پہن رکھی تھی اور ہاتھوں میں تلواریں اور بندوقیں لہراتے دکھائی دے رہے تھے۔
تاہم وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے لیڈروں نے رضاکاروں کے ٹوپی پہننے سے انکار کیا ہے، لیکن مسلم کمیونٹی اور میڈیا کے ایک طبقے میں اس تربیت کی سخت تنقید ہوئی ہے اور اس طرح کے کیمپوں کے انعقاد کے لیے چھوٹ دینے پر مقامی انتظامیہ پر سوال اٹھایا گیا ہے۔
ان کیمپوں سے دلبرداشتہ آل انڈیا ملی کونسل کے مقامی رہنما خليق احمد خان کا کہنا ہے کہ ’مسلمانوں کے اندر خوف پیدا کرنے کی یہ دائیں بازو بھارتیہ جنتا پارٹی اور ریاستی حکومت کی دانستہ کوشش ہے اور ہم اس کے خلاف عدالت جائیں گے۔‘
اتر پردیش حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں ایودھیا کیمپ کے لیڈر کو گرفتار کیے جانے کے باوجود پوری ریاست میں ایسے کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں۔

انھیں بظاہر ریاست کے گورنر رام نائیک کی بھی حمایت حاصل ہے۔
بی جے پی کے سابق وزیر نایک نے کہا تھا: ’سیلف ڈیفنس ضروری ہے اور ہر شہری کو اس کی تربیت دی جانی چاہیے۔‘
دریں اثنا مرکز میں حکمراں جماعت بی جے پی نے یہ کہتے ہوئے اس تنازعے سے دامن چھڑانے کی کوشش کی ہے کہ ’ان کیمپوں کا مقصد کسی خاص کمیونٹی، بطور خاص مسلمانوں کے خلاف بدامنی پیدا کرنا نہیں ہے۔‘
بجرنگ دل کے سابق لیڈر اور بی جے پی کے رہنما ونے کٹیار نے کہا، ’ان کیمپوں میں نیا کیا ہے؟ گذشتہ 20 سالوں سے یہ ہر سال منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان میں کوئی ٹوپی نہیں پہنی گئی اور اگر کچھ لوگ نے سر پر سكارف پہنا یا ايئرگن سے مظاہرہ کیا، تو یہ تربیت کا محض حصہ ہے۔‘
لوگوں کے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے، ایسا لگتا ہے کہ ان میں ہلکے ہتھیاروں کی جگہ لکڑی کی بندوقیں، چاقو اور لاٹھیوں کا استعمال ہونے لگا لیکن کیمپ جاری ہیں۔

خیال رہے کہ ہندو بنیاد پرست تنظیمیں پہلی بار تنازعات میں نہیں آئی ہیں۔
وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے رہنماؤں نے تو کھلے عام کہا ہے: ’بھارتی جمہوریت کو ہندو ثقافت کی بنیاد پر چلانے کی ضرورت ہے، اگرچہ اس میں ہندوستان میں رہنے والی تمام برادریوں کا استقبال ہے۔‘







