مودی کی ڈگریاں جعلی نہیں، بی جے پی کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں جاری کر دی ہیں اور دلی کے وزیرِ اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نریندر مودی سے ان کی ڈگریوں کو جعلی قرار دینے کے لیے معافی مانگیں۔ لیکن عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے اس دعویٰ کا اعادہ کیا ہے کہ یہ ڈگریاں جعلی ہیں۔
بی جے پی کے صدر دفتر میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صدر امیت شاہ نے کہا کہ دلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کی ڈگریوں کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلا رکھی تھیں۔ انھوں نے مودی کی ڈگریاں پریس کے لیے جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے گریجویشن دلی یونیورسٹی سے اور اور ایم اے گجرات یونیورسٹی سے کیا۔ ایم اے انھوں نے سیاسیات میں کیا تھا۔ یہ تعلیم انھوں نے مراسلاتی کورس کے طور پر حاصل کی تھی۔
ڈگریوں کے ساتھ ساتھ ان کی مار ک شیٹس بھی جاری کی گئی ہیں۔
امیت شاہ نے کہا کہ کیجریوال نے ملک میں سیاسی بحث کی سطح کو بہت نیچے گرا دیا ہے۔ انھوں نے کہا ’کہ کیجریوال اب لوگوں کو بتائيں کہ مودی کی ڈگری جعلی قرار دینے کی ان کے پاس کیا بنیاد تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ اس طرح کے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے انھیں انتہائی افسوس ہو رہا ہے۔ ’کیجریوال اب اس کی وضاحت کریں کہ جب ان کے پاس کوئی پختہ ثبوت نہیں تھا تو انھوں نے کن بنیادوں پر وزیر اعظم کی ڈگریاں جعلی قرار دی تھیں؟
امیت شاہ نے کہا کہ کیجریوال نے پوری دنیا میں ملک کی بدنامی کی ہے۔ ’اب وہ اس کے لیے پورے ملک سے معافی مانگیں۔انھوں نے ڈگریاں جعلی ہونے کا الزام لگایا تھا۔ انھیں اس کی وضاحت کرنی چاہئیے۔‘
نیوز کانفرنس میں بی جے پی کے رہنما اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بھی اروند کیجریوال پر نکتہ چینی کی۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم کی ڈگریوں کو جعلی اس پارٹی نے قرار دیا ہے جس کے کئی ارکان اسمبلی کو جعلی ڈگریاں پیش کرنے کے جرم میں سزا دی چکی ہے۔‘
عام آدمی پارٹی نے ایک نیوز کانفرنس میں امیت شاہ کے دعوے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ جو ڈگریاں اور مارکس شیٹ آج جاری کی گئی ہیں ان میں نام اور سنہ کا فرق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے رہنما آشوتوش نے کہا کہ ’وزیرِ اعطم بننے کے لیے باضابطہ تعلیمی لیاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وزیر اعظم نے بی اے اور ایم اے نہیں کیا ہے تو انھیں اس کے بارے میں مان لینا چاہیے۔ یہ ڈگریاں فرضی ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کی بی اے کی جو مارکس شیٹ جاری کی گئی ہیں اس میں انھیں ایک بار پاس اور ایک بار فیل دکھایا گیا ہے۔
بـی جے پی نے ان سبھی دلیلوں کو رد کر دیا ہے۔
وزیرِ اعظم مودی کی تعلیمی ڈگریوں کے بارے میں کچھ عرصے سے اخبارات اور سوشل میڈیا میں کافی کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں عام آدمی پارٹی کے سینیئر رہنما آشوتوش نے ایک نیوز کانفرنس میں دعوی کیا تھا کہ مودی کی بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ مودی کبھی دلی یونیورسٹی کے طالب علم نہیں تھے۔







