مالیگاؤں دھماکوں میں گرفتار مسلمان نوجوان بری

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
ممبئی کی ایک عدالت نے سن 2006 کے مالیگاؤں بم دھماکوں میں ملزم بنائے جانے والے آٹھ مسلمان نوجوانوں کو بری کر دیا ہے۔ ان دھماکوں میں 35 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان حملوں کے لیے انسداد دہشتگردی سکواڈ نے پہلے مقامی مسلمانوں کو ملزم بنایا تھا لیکن بعد میں جب کیس کی تحقیقات قومی تفتیشی بیورو (این آئی اے) کے سپرد کی گئی تو اس نے عدالت سے کہا کہ ملزمان کے خلاف کیس فرضی ہے اور ان دھماکوں کے لیے دراصل ہندو شدت پسند تنظیم ابھینو بھارت ذمہ دار تھی۔
اسی تنظیم سے وابستہ افراد کو مالیگاؤں میں 2008 میں ہونے والے دھماکوں کے لیے بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی دستے کا دعوی تھا کہ ان نوجوانوں کا تعلق ممنوعہ سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) سے تھا اور انھوں نے یہ حملے لشکر طیبہ کی مدد سے کیے تھے۔
تب سے ہی ملک میں ’بھگوا دہشتگردی‘ کا ذکر شروع ہوا تھا۔ اس تنظیم سے وابستہ سوامی اسیم آنند نے این آئی کو بتایا تھا کہ مالیگاؤں میں دونوں حملے ابھینو بھارت نے ہی کرائے تھے۔ لیکن اسیم آنند نے بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔ اسیم آنند کو سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
این آئی اے نے 2014 میں عدالت سے درخِواست کی تھی کہ مسلمان ملزمان کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا جائے۔ لیکن حال ہی میں این آئی نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئِے کہا تھا کہ وہ اب مقدمہ خارج کرنے کے خلاف ہے۔ لیکن عدالت نے اس کے تازہ موقف کو مسترد کر دیا۔



