دنیا سے الگ تھلگ خوش و خرم بھوٹان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین اور انڈیا کے درمیان ایک چھوٹا سا ملک بھوٹان ہے جو ان دنوں اہم مہمانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ انگلینڈ کے ڈیوک ولیئم اور اُن کی اہلیہ ڈچس آف کیمبرج شہزادی کیٹ انڈیا کے بعد اب بھوٹان آئی ہیں۔
ہمالیہ کے دامن میں موجود اس چھوٹی سی ریاست سے باہر کی دنیا بہت کم واقف ہے۔ یہ ملک الگ تھلگ ہے اور الگ تھلگ رہنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی صدیوں تک دنیا سے رابطہ منقطع کیا رکھا۔ حتیٰ کہ اس نے 90 کی دہائی کے بعد انٹرنیٹ اور ٹی وی پر پابندی ختم کی۔
1970 تک بھوٹان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد پر پابندی تھی، اب بھی حکام باہر سے آنے والوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔
بھوٹان اور برطانیہ کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم چیزیں اب تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔
لیکن اب دارالحکومت تھمپو میں سمارٹ فونز اور کیراوکی بار عام ہیں۔ ملک میں نوجوان آبادی کی اکثریت ہے، جن کی سوشل میڈیا تک رسائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہر کی سڑکوں پر جدید فیشن میں ملبوس افراد دکھائی دیتے ہیں اور سیاست کے بارے میں کھلے عام بات چیت ہوتی ہے۔
بہت سے چیزوں میں بھوٹان دنیا میں ٹرینڈ کرتا رہا ہے، جیسے 1990 سے بھوٹان میں پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد ہے اور تمباکو بھی تقریباً غیر قانونی ہی ہے۔
قانون کے تحت ملک کی 60 فیصد زمین پر جنگلات ہونے چاہییں۔ قدرتی حسن سے مالا مال اور حسین ثقافت کے باوجود دنیا کے سیاحوں کے لیے بھوٹان نے اپنے دروازے دنیا کے لیے جان بوجھ کر بند رکھے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھوٹان میں حکومت نے ایک سال میں آنے والے سیاحوں کی حد مقرر کی ہے اور جنوبی ایشیائی ملک کے علاوہ باہر سے آنے والے سیاحوں کو یومیہ 250 ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ملک کی آمدن کا بڑا حصہ سیاحت سے آنے والے آمدن پر مشتمل ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا ماحولیات اور ثقافت پر سیاحت کے باعث پڑنے والے اثرات کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور ان اقدامات سے علاقے کے منفرد تاثر کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Imaages
لیکن ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور اسی لیے سیاحت کو مزید فروغ دینے کے لیے آواز اُٹھائی جا رہی ہے۔
بھوٹان میں خام ملکی پیداوار کے بجائے خام ملکی خوشحالی ناپی جاتی ہے۔ جس کا مطلب ہے عوام کی دماغی خوشحالی اور مادی اشیا میں توازن۔
بھوٹان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں جی ڈی یعنی خام ملکی پیداوار پی کی بجائے گروس نیشنل ہیپی نیس یعنی خام قومی مسرت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور ملک میں خام ملکی مسرت کا مرکز قائم ہے جو خوشی کے اعدادوشمار اکٹھا کرتا ہے۔ بھوٹان کے بہت سے افراد اپنی زندگیوں سے مطمئن ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ کچھ زیادہ ہی استعمال ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے بدعنوانی اور پست معیارِ زندگی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
ملک میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد سے زیادہ ہے اور خام ملکی پیدوار کے لحاظ سے بھوٹان کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔
لیکن ایسا بھی نہیں کہ بھوٹان میں سب کچھ ہرا ہرا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ملک میں غلامی پر کہیں جا کر 1958 میں پابندی لگی، جس کے بعد بدھسٹ بھوٹانی ثقافت کی حمایت میں منظور کی گئی پالیسیوں کے بعد 1990 میں نیپالی اقلیت کے ساتھ جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔
اس کے بعد سے ہزاروں افراد نے نیپال میں مہاجرین کے کیمپوں میں پناہ لی اور ابھی تک اُن کی حیثیت متنازع ہے۔
بادشاہ جیگمے کیسر نیمگیال وانگچیک نے سنہ 2006 میں تحت سنبھالنے کے بعد ملکی سیاست میں ڈرامائی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ اُن کے والد نے سنہ 1998 میں اختیارات منتقل کیے اور اب ہر سطح پر انتخاب ہوتا ہے۔
ملک میں پہلا عام انتخاب سنہ 2008 میں ہوا جس میں دو سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔ جس کے بعد سنہ 2013 میں دوسری بار الیکشن ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بادشاہ نے انڈیا، امریکہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور ابھی بھی ملک میں اُن کی بہت عزت ہے۔ انھوں نے ملکہ جٹسن پیما سے سنہ 2011 میں شادی کی۔
بادشاہ کے پہلے بچے کی پیدائش پر ہزاروں افراد نے جشن منایا اور اس موقعے پر 108000 درخت لگائے گئے۔
ملک میں شجر کاری بہت عام ہے اور اسے خوبصورتی، لمبی زندگی اور خدا ترسی یا رحم کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
سنہ 2015 میں بھوٹان نے ایک گھنٹے میں 50 ہزار درخت لگا کر گینز بک آف ریکارڈز میں جگہ بنا لی تھی۔







