آسام میں انتخابات مودی کے لیے اتنے اہم کیوں؟

آسام کے ریاستی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے پیر صبح آٹھ بجے سے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنآسام کے ریاستی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے پیر صبح آٹھ بجے سے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوہاٹی

’کانگریس نے آسام کی سرحدیں بنگلہ دیشی دراندازوں کے لیےکھول رکھی ہیں۔ بنگلہ دیشی دراندازوں کے سبب ریاست میں ترقی نہیں ہو پا رہی ہے۔‘

بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے آسام میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگران کی پارٹی اقتدارمیں آگئی تو وہ ایک ایک غیر ملکی کو ریاست سے باہر نکال دے گی۔‘

آسام کی 126 رکنی اسمبلی کےپہلےمرحلےمیں پیرکو 65 حلقوں میں ووٹ ڈالےجا رہے ہیں۔

کانگریس 15 برس سےاقتدارمیں ہے اور بی جے پی یہاں جیت کی امید کررہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر کے علاوہ سشما سوراج اور سمریتی ایرانی نے انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔

بی جے پی نے ریاست میں ’پریورتن‘ یعنی تبدیلی کا نعرہ دیا ہےلیکن اس کی مہم کا محور ’غیرملکی درانداز‘ ہیں۔ پارٹی کے ریاستی صدر سربانند سونوال نے کہا ہے کہ یہ بنگلہ دیشی دراندازوں کو باہر نکالنے کی آخری جنگ ہے۔

انھوں نےکہا کہ ’اگر میری جماعت اقتدارمیں آگئی تو میں دراندازوں کو بے ملک کردوں گا۔‘

شمال مشرقی امور کے تجزیہ کار سنجے ہزاریکا کہتے ہیں کہ ’گذشتہ 30-25 برس سے یہ رحجان رہا ہے‘ کہ جب کوئی آسام میں بنگلہ دیشی دراندازی کی بات کرتا ہے تو دراصل وہ ریاست کے بنگالی نژاد مسلم شہریوں کو ہدف بنا رہا ہوتا ہے۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے بہت سے چہرے آسام میں ہیں
،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے بہت سے چہرے آسام میں ہیں

آسام میں 35 فی صد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ اس میں تقریباً 30 فی صد بنگالی نژاد مسلم ہیں۔ آسام میں کئی قبائلی گروپ اور نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں ماضی میں کئی علیحدگی اور پر تشدد نسلی تحریکیں چل چکی ہیں۔

ریاست میں ہندو اور مسلمان بنگالیوں کی تعداد تقریباً 40 فی صد ہے اور وہ ریاست کے سب سے بڑے نسلی اور لسانی گروہ ہیں۔ ماضی میں ان کے خلاف کئی بار خونریزتحریکیں ہوئي ہیں اورکئی بار سیکڑوں لوگوں کا قتل عام بھی ہوا ہے۔

ریاست کے سرکردہ تجزیہ کار نیلم دتا کہتے ہیں کہ ’غیرقانونی بنگلہ دیشی شہریوں کا مسئلہ ایک ایسا فرضی معاملہ ہے جس میں کئی سیاسی جماعتوں نے بھاری سیاسی سرمایہ کاری کی ہے۔ بی جے پی بنگلہ دیشیوں کا سوال اٹھا کر ووٹروں کو مذہبی خطوط پرمنقسم کرنا چاہتی ہے اور مسلمانوں کو عدم تحفظ کی حالت میں رکھنا چاہتی ہے۔ کانگریس اور مسلم سیاسی جماعت اے آئی ڈی یو ایف بھی یہی چاہيں گی کہ یہ بےیقینی برقرار رہے تاکہ مسلمان خوف کے سبب ان کی حمایت کریں۔‘

آسام میں تقریبا 35 فی صد مسلمان ہیں اور یہاں ایک مسلم جماعت حزب اختلاف میں ہے

،تصویر کا ذریعہSubhamoy Bhattacharjee

،تصویر کا کیپشنآسام میں تقریبا 35 فی صد مسلمان ہیں اور یہاں ایک مسلم جماعت حزب اختلاف میں ہے

بی جے پی کی مہم نے آسام کے بنگالی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا ہے۔ کانگریس مسلسل 15 برس سے اقتدار میں ہے۔ مسلمان آبادی کےاعتبار سے ریاست کی آبادی کا ایک تہائی سے بڑا حصہ ہیں لیکن ریاست کی سیاست میں ان کا اثر ’برائےنام‘ ہے۔ نیلم دتا کے خیال میں’ریاست کی کوئی بھی جماعت مسلمانوں کےمفاد کے بارے میں بات نہيں کر تی۔‘

کانگریس کےطویل اقتدار کے بعد بی جےکو ریاست میں اپنی جیت کی امید ہے۔ آسام کےانتخابات بی جے پی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دہلی اور بہار کی شکست کے بعد وزیر اعظم نریند مودی کو اپنی سیاسی طاقت برقرار اور مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑی انتخابی جیت کی سخت ضرورت ہے۔

غیرقانونی بنگلہ دیشی شہریوں کے حلاف انتخابی مہم سےبی جے پی کو کتنا فائدہ پہنجتا ہے یہ انتخابات کےنتائج سےمعلوم ہو سکے گا۔