منہدم پل کے نتیجے زندگی کے آثار معدوم

،تصویر کا ذریعہAP
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں ایک زیر تعمیر پل کے گرنے سے کم از کم 23 افراد ہلاک ہوگئے ہیں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ملبے تلے سے کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔
امدادای کارراوائیوں سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک تقریبا 90 لوگوں کو نکالا گیا ہے جس میں سے بعض بری طرح سے زخمی افراد سنگین حالت میں ہسپتال میں بھرتی ہیں۔
پولیس کے سربراہ اجے تیاگی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ جن افراد کو ملبے سے نکالا گیا ہے اس میں سے بعض سنگین طور پر زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’اب بھی بہت سے لوگوں کے ملبے کے نیچے دبے ہونے امکان ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
آفات سے متعلق قومی ٹیم کے رکن ایس ایس گلوریہ نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ امدادی آپریشن اب اپنے آخری مراحل میں ہے ۔ اور ’اب اس میں کسی کے زندہ بچنے کے امکان بہت کم ہی ہیں۔‘
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ملبے کے تلے کتنے افراد دبے ہوسکتے ہیں۔
اس سے قبل کولکتہ میں مقامی صحافی کلپنا پردھان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پل کے نیچے اب بھی ایک ٹرک پھنسا ہوا جس میں بعض افراد کی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں اور اس میں کئي لوگوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ امدادی ٹیم نے ملبے کے نیچے سے جمعہ کی صبح ایک اور لاش بر آمد کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہepa
پولیس کا کہنا ہے کہ امدادی کاررائیاں جمعہ کو دن بھر چل سکتی ہیں۔
کلپنا پردھان کا کہنا تھا کہ بارش کے سبب امدادای کارروائیاں متاثر ہوئی تھیں لیکن بارش رکنے کے بعد اب یہ کام دوبارہ زور شور سے جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ جہاں یہ واقعہ پیش آيا ہے وہ تنگ گلیوں اور گنجان آبادی والا علاقہ ہے اس لیے امدادای کاموں کے لیے بڑے کرین لے جانا بہت مشکل ہے اسی لیے امداد اور راحت کے کاموں میں تاخیر ہورہی ہے۔
انڈین ٹیلی ویژن چینلوں پر جائے وقوعہ پر ہونے والی امدادی کاررروائیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے اپنا انتخابی دورہ منسوخ کر کے جمعرات کی شام کو جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا اور حالات کا جائزہ لیا ہے۔
ممتا بینرجی نے کہا ہے کہ حادثے کے لیے ذمہ دار لوگوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال انتظامیہ کی ترجیح ملبے میں پھنسے لوگوں کو بچانا ہے۔
ممتا بنرجی نے حادثے کے لیے ریاست کی سابقہ بائیں بازو کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی حکومت نے سنہ 2009 میں یہ ٹینڈر پاس کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
شہر کے بڑا بازار نامی علاقے جہاں یہ حادثہ پیش آیا ہے وہ بہت گنجان آباد علاقہ ہے اس لیے متاثرین کی تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو دوپہر بعد پہلے ایک زوردار دھماکہ ہوا پھر پل گرنے کی شدید آواز سنائی دی۔







