جھونپڑپٹیوں کے بڑے خواب

- مصنف, کنجل وجے واگھ
- عہدہ, بزنس نامہ نگار، بی بی سی نیوز
غریب گھروں کے بچے اپنے خواب کو عام طور پر کرکٹ میں ہی پورا ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔
یہ خیال ہے راجیش پندیر کا جو سرکاری ملازم ہیں اور ایسے ہی غریب گھروں کے بچوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں۔
گذشتہ سال مسٹر پندیر نے ’سلم کرکٹ لیگ‘ قائم کی تاکہ دہلی کی جھونپڑپٹیوں میں رہنے والے لڑکوں کو پیشہ ورانہ سطح پر کرکٹ کھیلنے کا موقع مل سکے۔
وہ کہتے ہیں: ’بس ان بچوں کو کھیلتے دیکھیں، یہ کسی پیشہ ور سے کم نہیں۔ انھیں صرف کوچنگ اور تعاون کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے سات سال قبل سماجی خدمات کے کاموں میں حصہ لینا شروع کیا تھا پھر دو سال قبل انھوں نے بچوں اور خواتین کی فلاح کے لیے ایک غیر سرکاری ادارہ ’کمیونٹی فاؤنڈیشن چیریٹیبل ٹرسٹ‘ قائم کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے رول ماڈل ان کے والد ہیں جنھوں نے ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں کی مدد کی ہے۔ گذشتہ سال وہ اپنے والد کے ساتھ ایک جھونپڑپٹی کے علاقے میں گئے تھے جہاں انھوں نے وہاں کے بچوں کو ایک ٹوٹے ہوئے بیٹ اور ایک گیند کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔

’اس دن جب ہم دفتر پہنچے تو ہم نے اس بات پر غور و خوض کیا کہ ہم ان بچوں کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چند ہم خیال افراد کے تعاون سے ہم نے اتنے فنڈ اکٹھا کر لیے کہ ہمارا کام ہونے لگا اور گذشتہ ستمبر سلم کرکٹ اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا تاکہ ان بچوں کو پیشہ ورانہ تربیت دی جا سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلا ٹورنامنٹ اکتوبر میں منعقد کیا گیا جس میں دہلی کی دس جھونپڑپٹیوں کی ٹیموں نے شرکت کی۔
مسٹر پندیر نے کہا کہ ’پہلا ٹورنامنٹ یادگار رہا کیونکہ ہر کوئی ان بچوں کی صلاحیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔‘ دوسرا ٹورنامنٹ دسمبر میں ہوا جبکہ تیسرا اپریل میں ہونا ہے۔
آج دہلی کے مختلف علاقوں سے تقریباً 100 بچے کرکٹ کی کوچنگ حاصل کر رہے ہیں۔
مسٹر پندیر کہتے ہیں کہ ’بھارت میں کرکٹ دھرم ہے اور کرکٹر دیوتا ہیں۔ بچے اس کھیل میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ آپ صرف انھیں تربیت دیں اور وہ خود کو ثابت کر دیں گے۔‘

جنوبی دہلی کی ایک جھونپڑپٹی میں اچانک بچے بڑے خواب بننے لگے ہیں۔
ایک کھلاڑی امن کمار کہتے ہیں: ’میں تیندلکر بننا چاہتا ہوں۔ جب میں کرکٹر بن جاؤں گا تو میں اپنے خاندان کے لیے اچھا گھر خریدوں گا۔‘
ان کی والدہ انیتا دیوی نے کہا: ’پہلے یہ نہیں لگتا تھا کہ میرے بچوں میں اس سے کوئی تبدیلی آئے گي لیکن انھوں نے پچھلے سال میچوں میں اچھی کرکٹ کھیلی۔ مجھے امید ہے کہ انھیں اس سے زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے میں مدد ملے گي۔‘
پندیر نے کہا ’اگر یہ کھیل ان کی زندگی تبدیل کر سکتا ہے تو میں ان کے لیے خوش ہوں گا۔ میں ان دنوں بس یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ یہ بچے کتنے اونچے خواب دیکھ رہے ہیں۔‘







