’آوارہ کتے دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں‘

آوارہ کتے دہلی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآوارہ کتے دہلی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں

بھارتی شہر دہلی میں سب سے بڑے ہوائی اڈے کے حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے کے فعال مقامات پر موجود آوارہ کتوں کو دہشت گرد حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم جانوروں کی فلاح و بہبود کے قوانین کی وجہ سے انھیں ہٹانے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

دی ٹائمز آف انڈیا اخبار نے لکھا ہے کہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی انتظامیہ نے جنوبی دہلی کی مقامی کونسل کو تحریری طور پر کہا ہے کہ ان آوارہ کتوں کو ٹرمینل کی عمارت کے اردگرد سے فوراً ہٹایا جائے۔

انتظامیہ نے کہا ہے کہ ’ایسا رجحان پایا جاتا ہے کہ عوامی مقامات پر دھماکہ خیز آلات کے ذریعے دھماکے کرنے کے لیے کتوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

اس قسم کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جنوری میں بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر شدت پسند حملے ہوئے تھے۔ یہ حملے چار دن تک جاری رہے تھے۔

تاہم ان آوارہ کتوں کو ہٹانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ کیونکہ قانون کے مطابق کونسل کتوں کو نس بندی کے لیے ہی وہاں سے ہٹا سکتی ہے اور اس کے بعد کونسل ان کتوں کو اسی جگہ واپس چھوڑنے کی پابند ہوگی جہاں سے انھیں پکڑا گیا ہو۔

اینیمل ویلفیئر بورڈ کا کہنا ہے کہ ’ان آوارہ کتوں کو ہٹانے کے لیے صرف یہ کیا جا سکتا ہے کہ انھیں ٹرمینل کی عمارت سے ہٹا کر ان کا جراثیم کے لیے علاج کرنے کے بعد انھیں اسی عمارت کے قریب گاڑیوں کی پارکنگ جیسے مقامات پر واپس چھوڑ دیا جا سکتا ہے۔‘

اب یہ مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا ہے جہاں مقامی کونسل ججوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان آوارہ کتوں کو ایئر پورٹوں یا اس کے قریبی مقامات پر نہ چھوڑا جائے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ کتے دوبارہ ہوائی اڈے کے فعال مقامات میں داخل ہو جاتے ہیں اور مسافروں اور سیاحوں کے لیے زحمت کا باعث بنتے ہیں۔‘

دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس معاملے پر کسی بھی حتمی فیصلے اور اس کا حل تلاش کرنے میں مزید چار ماہ لگ سکتے ہیں۔