کتے پر تشدد، ایران میں عوامی احتجاج

،تصویر کا ذریعہFacebookPanahgahe Heyvanat Bisarparaste Mazandara
ایران میں ہزاروں کی تعداد میں افراد ایک کتے کی ویڈیو کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس میں اس کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کرتے دکھایا گیا ہے۔
کچھ افراد سرکاری دفاتر کے باہر حکام کے خلاف بھی اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیا یہ صورتحال ملک میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے ایک نیا موڑ ثابت ہوسکتی ہے؟
فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص ایک کتے کو چھڑی اور ٹھوکروں سے مار رہا ہے۔ وہ جانور کو کانوں اور دم سے پکڑ کر ادھر ادھر پھینکتا ہے اور اپنے پک اپ ٹرک پر دے مارتا ہے۔
کتا جب اپنے بچاؤ کے لیے ٹرک کے پچھلے حصے پر چھلانگ لگاتا ہے تو وہ شخص اس کا پیچھا کرتا ہے اور اسے اپنے بیلچے سے مارتا ہے۔ آس پاس کھڑے افراد کتے کو درد سے کراہتے دیکھ کر ہنستے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہYouTube
یہ ویڈیو ایران میں نیٹ پر وسیع پیمانے پر دیکھی جانے لگی، خاص طور پر مشہور موبائل میسجنگ ایپلی کیشن ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے۔ حکام نے تفتیش کی اور ٹرک کے نمبر کے ذریعے اس شخص کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے، جو شمال مغربی صوبے گلستان کے ایک گاؤں کا مقامی شکاری تھا۔
لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ زیادہ حیران کن تھا، ایران میں جانوروں پر ظلم کے خلاف کوئی قوانین نہیں ہیں اور کتوں کو عام طور پر رجعت پسند مسلمانوں کی جانب سے ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کو بہت شدید ردعمل سامنے آیا۔ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور عام شہریوں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی گئی۔
ایک تبصرہ تھا: ’یہ شرمناک ہے! اس شخص کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘
عوامی دباؤ پر مقامی پراسکیوٹر نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اس شکاری کو دو ماہ قید اور 74 کوڑوں کی سزا ملے گی کیونکہ اس نے جو کچھ کیا وہ ’حرام‘ عمل ہے یا اسلام میں ناقابل قبول ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مبینہ طور پر کتے کا علاج معالجہ بھی کیا جارہا ہے۔
پیر کو مظاہرین محکمہ ماحولیات کے سامنے جمع ہوئے اور انھوں نے جانوروں پر ظلم کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
جمعے کو ایران میں منعقد ہونے والے انتخابات کے پیش نظر مظاہروں پر پابندی کے باوجود دارالحکومت تہران کے علاوہ دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
اس کے بعد ایران کے محکمہ ماحولیات کی سربراہ معصومہ ابتکار کا کہنا تھا کہ آوارہ جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے کابینہ میں تجویز بھجوا دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ایران کی محدود تعداد کی اشرافیہ کتوں کو بطور پالتو جانور رکھتی ہے لیکن ملک کی اخلاقیاتی پولیس کو کسی بھی جانور کو اپنی تحویل میں لینے کا حق ہے۔
سنہ 2014 میں رجعت پسند ارکان پارلیمان نے گروہ نے کتوں کو بطور پالتو جانور رکھنے کو مجرمانہ فعل قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی، جس میں 74 کوڑوں کی سزا یا جرمانہ عائد کرنے مطالبہ کیا گیا تھا۔







