آزادی کے لیے ایرانی خواتین کی جدوجہد

،تصویر کا ذریعہMy Stealthy Freedom
ایران عام طور پر خواتین کے حقوق کی بجائے مذہبی قدامت پرستی کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن غیر ملکیوں کو شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک طویل اور تاریخی تحریک چلتی آئی ہے۔
ایرانی خواتین ووٹ ڈالنے کے حق کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی رکن بھی ہیں۔ سعودی خواتین کے برعکس وہ گاڑیاں بھی چلا سکتی ہیں۔
ایرانی خواتین اقتصادی زندگی میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں اور کام کرتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے تمام طلب علموں میں 70 فیصد سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔
لیکن ایران میں کئی غیر معمولی خواتین کی جدو جہد اور قربانیوں کے بغیر یہ آزادیاں بھی نہ ملتیں۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے لیے تعلیم کا راستہ اختینر کرنا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEncyclopaedia Iranica
یہی بات ایران میں حقوق نسواں کی تحریر شروع کرنے والی بی بی فاطمہ ایسترآبادی جیسی خواتین کو سمجھ آگئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1905 میں ہونے والے آئینی انقلاب کے دوران بی بی فاطمہ نے لڑکیوں کے لیے ملک کا سب سے پہلا پرائمری سکول کھولا جس میں ریاضی، ادب، خطاطی اور تاریخ جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔
بی بی فاطمہ نے کئی قدامت پسند علما کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کیا جنھوں نے اُن کے سکول پر بے حیائی اور بدعنوانی کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے۔
لیکن بی بی فاطمہ اپنے مخالفین سے لڑتی رہیں، اور انھوں نے کئی نوجوان خواتین کو ایک آواز کے ساتھ ساتھ مستقبل بھی دیا۔

غمر الملوک وزیری جیسی بہت کم خواتین تھیں جنھوں نے اپنی آواز کا اتنا بااثر استعمال کیا تھا۔
وہ آئینی انقلاب سے صرف ایک سال قبل پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے بچپن سے ہی نغمے گانا شروع کر دیے تھے۔ انھوں نے اپنی نانی سے سوگ کے مذہبی نغمے سیکھے۔
غمر 20 سال کی عمر سے ہی ایران میں موسیقی کی دنیا کو بدل رہی تھیں جس پر اس وقت مردوں کا غلبہ تھا۔
انھوں نے سٹیج پر اُس دور میں بغیر نقاب لیے گانا گایا جس دور میں سر کو نہ اوڑھنے والی خواتین کو اکثر قید کر دیا جاتا تھا۔
سنہ 1924 میں غمر الملوک وزیری نے تہران کے گرینڈ ہوٹل میں گانا گانے کا فیصلہ کیا جس سے ان کے بعد آنے والی خواتین کے لیے کئی دروازے کھل گئے۔
16 سال بعد ایران میں ریڈیو کے سگنل پہلی بار فراہم کیے گئے اور عوام نے آخر کار غمر کی آواز سن ہی لی۔ آج بھی وہ بغاوت اور آزادی کی علامت ہیں۔

لیکن خواتین اپنی آوازیں صرف نغموں کے ذریعے نہیں سناتی تھیں۔ بہت عرصے سے انھوں نے ادب کے ذریعے اپنی کہانیاں، خدشات اور جمود کو چیلنج کرنے کے قصے لوگوں تک پہنچائے۔
ایک خاتون کی شاعری نے تو فارسی میں ادب کی دنیا ہی بدل کر رکھ دی۔
فروغ فرخ زاد اپنی نظمیں جرات مند، سچے اور کھلے دل کے انداز سے لکھتی تھیں۔انھوں نے 16 سال کی عمر میں ایک مشہور طنز نگار پرویز شپور سے شادی کر لی۔
ان کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا لیکن دو سال بعد ہی ان کو طلاق ہو گئی۔ ایران کے قدامت پسند اور دینی معاشرے میں فرخزاد ایک متنازع کردار ادا کر رہی تھیں۔
وہ شاعری لکھنے والی ایک طلاق یافتہ خاتون تھیں جو خواتین پر عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف اپنے غصے کا کھلے دل سے اظہار کرتی تھیں۔
انھوں نے آزادی کا مطالبہ کر کے ایرانی خواتین کو ایک ایسی دنیا کی جھلک دکھائی جس میں انھیں آزادی مل سکتی تھی۔
بدقسمتی سے فرخ زاد گاڑی کے ایک حادثے میں 32 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
سنہ 1979 میں جب ملک میں اسلامی انقلاب آیا تو خواتین کی جدوجہد، دکھ اور درد سے حاصل کی گئی کئی آزادیاں ان سے پھر سے چھین لی گئیں۔

،تصویر کا ذریعہMasih Alinejad
ایک نئے اور زیادہ قدامت پسند معاشرے کی آمد سے علما نے ملک پر دوبارہ غلبہ قائم کر لیا جو انھوں نے پہلے کھو دیا تھا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ انقلاب برپا کرنے میں ایرانی خواتین نے بڑا کردار ادا کیا تھا۔
مذہبی، بائیں بازو سے، گھریلو اور طلِبَہ جیسی مختلف پس منظروں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے سڑکوں پر مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہو کر مطالبہ کیا تھا کہ شاہ ملک چھوڑ دے۔
جب امریکی سفارت خانے کا محاصرہ کیا گیا اور کئی لوگوں کو یر غمال بنایا گیا تھا تب حملہ آوروں کے رہنماؤں میں سے معصومہ ابتکار نامی ایک خاتون بھی شامل تھی۔
اپنی تعلیم امریکہ میں حاصل کر کے وہ ایران کی ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم کی سربراہ بن گئیں۔
ایرانی خواتین نے انقلاب کی حمایت اس امید سے کی تھی کہ انھیں زیادہ آزادی ملے گی۔ لیکن بہت جلد ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ ان کی محنت رائیگاں گئی۔
ملک کے حکام نے قیادت سنبھالنے کے بعد بہت جلد حکم دیا کہ سرکاری تنظیموں میں کام کرنے والی تمام خواتین کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات میں موجود خواتین کوحجاب پہننا ہو گا۔
تب سے لے کر اب تک ایرانی خواتین اس قانون کی مخالفت کرتی آ رہی ہیں۔ لیکن کچھ چھوٹے اقدامات اور مظاہروں کے بعد آہستہ آہستہ چیزیں بدل رہی ہیں۔
حجاب کی پابندی کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اب کئی خواتین اپنے سروں پر رنگ برنگے دوپٹے اوڑھ کر انھیں ڈھیلے انداز سے لپیٹتی ہیں۔
انھوں نے ایک سنگین اور باحیا وردی کو فیشن کی ایک نمائشی چیز بنا دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFars
اس سے پہلے بہت سی خواتین کی طرح ایرانی صحافی اور بلاگر مسیح الینجاد نے بھی لازمی حجاب کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
انھوں نے انٹرنیٹ پر ’مائی سٹیلتھی فریڈم‘ نامی ایک مہم چلائی جس میں خواتین کو سر پر دوپٹے لیے بغیر اپنی تصاویر لے کر انھیں ویب سائٹ پر شائع کرنے کو کہا گیا۔
انفرادی طور پر تو یہ ایک چھوٹا سا احتجاج تھا لیکن مشترکہ طور پر یہ ایک عالمی تحریک بن گئی۔
لیکن ایران میں حقوق نسواں کی تحریک شروع کرنے والی تمام خواتین اپنی تقدیر خود نہیں چنتیں۔
ایران کی خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی کپتان نیلوفر عردلان اس وقت حقوق نسواں کی حامی اور علامت بن گئیں جب انھوں نے دنیا کے سامنے انکشاف کیا کہ ان کے شوہر نے انھیں ایک ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے بیرونِ ملک جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
ان کے شوہر نے انھیں ایک پاسپورٹ منگوانے کی در خواست بھیجنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
نیلوفر نے لاشعوری طور پر ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی جن کا سامنا کئی مشہور خواتین کو بھی رہا تھا۔

ستمبر سنہ 2010 میں معصومہ عطائی پر ان کے سسر نے تیزاب پھینک دیا تھا۔
اس حملے سے ان کی جلد اور جسم متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اندھی بھی ہو گئیں لیکن پھر بھی انھوں نے اپنے بیٹے کی تحويل کے لیے اپنے اندر لڑنے کی طاقت پیدا کی۔
وہ تیزاب کی متاثرین کے لیے مہمات چلاتی ہیں اور انھوں نے اپنی جیسی متاثرین کو بھی آواز دی ہے جنھیں دبانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
گذشتہ صدی میں ایرانی خواتین کے لیے مساوات اور شناخت کا راستہ کبھی آسان نہیں تھا۔
کئی خواتین نے جمود کو چیلنج کر کے کامیابی حاصل کی لیکن ظلم کا سامنا کرنے کے بعد انھوں نے اپنی آواز پھر کھو دی۔
تاریخ میں ایرانی خواتین نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ آج بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ ہمیشہ تبدیلی کے لیے ایک بڑی طاقت رہیں گی۔







