آٹھ سال بعد واپس آنے والی بہن کو زندہ جلا دیا

پولیس کو جائے حادثہ پر کیروسین اور ریت ملی ہے

،تصویر کا ذریعہYogendra Singh Saabla

،تصویر کا کیپشنپولیس کو جائے حادثہ پر کیروسین اور ریت ملی ہے

بھارتی ریاست راجستھان کے قبائلی ضلعے ڈونگرپور میں محبت کی شادی کر کے آٹھ سال بعد گاؤں واپس آنے والی ایک خاتون کو ’غیرت کے نام پر زندہ جلانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

پولیس کے مطابق خاتون کی موت کے سلسلے میں خاتون کے سگے بھائی سمیت سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آس پور تھانے کے علاقے میں راجپوت اکثریت والے گاؤں میں مرنے والی لڑکی کی راتوں رات آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی۔

’جمعے کی رات کو اطلاع ملنے پر جب پولیس وہاں پہنچی تو گاؤں میں جس چوراہے پر خاتون کو مبینہ طور پر نذر آتش کیا گیا تھا وہاں صرف مٹی کے تیل کے نشانات اور واردات پر پڑی ریت ملی۔‘

مقامی پولیس افسر روی شنکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس معاملے میں تین نامزد لوگوں سمیت کل 35 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گيا ہے۔‘

اس معاملے میں سات افراد کو گرفتار کیا گيا ہے جس میں زندہ نذر آتش کی جانے والی خاتون کا بھائی بھی ہے

،تصویر کا ذریعہYogendra Singh Saabla

،تصویر کا کیپشناس معاملے میں سات افراد کو گرفتار کیا گيا ہے جس میں زندہ نذر آتش کی جانے والی خاتون کا بھائی بھی ہے

پولیس کا الزام ہے کہ 30 سالہ رامیشوري کا راجپوت خاندان اپنی لڑکی کے ایک نوکر کے خاندان میں شادی کرلینے سے بے حد خفا تھا۔

وہ شادی کے بعد سے ہی اپنے شوہر کے ساتھ ممبئی میں رہ رہی تھی اور آٹھ سال بعد پہلی بار جمعرات کو اپنی تین سالہ کی بچی کے ساتھ گاؤں واپس آئی تھی۔

واقعے کے وقت وہ اپنے سسرال میں تھی۔ مرنے والی خاتون کی ساس کلاوتی نے پولیس میں دائر کی جانے والی رپورٹ میں کہا کہ ان کی بہو کو اس کے میکے والے مارتے پیٹتے ہوئے چوراہے پر لے گئے اور اسےآگ لگا دی۔

پولیس گاؤں میں گشت کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہYogendra Singh Saabla

،تصویر کا کیپشنپولیس گاؤں میں گشت کر رہی ہے

درج رپورٹ کے مطابق لڑکے کے خاندان کو بھی بہت ڈرایا دھمکایا گیا ہے۔

پولیس گاؤں میں گشت کر رہی ہے اور دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

لڑکے کا خاندان خوف کے سبب سے گاؤں چھوڑ کر دور کسی رشتہ دار کے یہاں چلا گیا ہے۔