’شادی کا وعدہ توڑنے پر‘ تاجر کے خلاف ریپ کا الزام

،تصویر کا ذریعہThink Stock
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کو ریپ کرنے کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔
متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ تاجر نے ان کے ساتھ شادی کرنے کے وعدہ کے بہانے ان سے جنسی تعلقات قائم کیے اور پھر اپنا وعدہ توڑ کر انھیں دھوکہ دیا۔
اطلاعات کے مطابق دونوں کے درمیان تعلقات پانچ ماہ تک قائم رہے۔
ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تاجر نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے اور خاتون کے درمیان جنسی تعلقات تھے۔
اگر انھیں مجرم قرار دیا جاتا ہے تو انھیں سات سے لے کر دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
انسپکٹر ستیش شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ مدعی کو پتہ چل گیا تھا کہ تاجر نے ایک اور خاتون کے ساتھ بھی تعلقات قائم کر رکھے تھے جس کے بعد انھوں نے پولیس میں شکایت درج کروا دی۔
انسپکٹر نے یہ بھی کہا کہ برطانوی شہریت رکھنے والے تاجر نے تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے خاتون سے شادی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
تاجر کو 14 روز کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نیوز کے دہلی دفتر سے نامہ نگار گیتا پانڈے کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارتی اخبارات نے ایسے کئی کیسوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کی ہیں جن میں کئی خواتین نے اپنے سابق پارٹنروں کے خلاف اس وقت ریپ کے الزامات عائد کیے جب انھوں نے ان سے شادی کرنے کے وعدے توڑ دیے۔
اگرچہ شادی کے بغیر جنسی تعلقات کے بارے میں ملک میں عوامی رائے کم سخت ہوئی ہے لیکن جنسی تعلقات اور کنوارپن کے بارے میں بھارت اب بھی دقیانوسی سوچ رکھتا ہے۔
شکایات کرنے والی ان کئی خواتین کا کہنا تھا کہ ان کے شادی سے پہلے جنسی تعلقات رکھنے کی وجہ سے ان سے کوئی اور شادی نہیں کرے گا۔
ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں درج کروائے گئے ریپ کیسوں میں 30 فیصد میں ’شادی کرنے کے وعدے توڑنے‘ کے کیس شامل ہیں۔







