افغان پولیس اہلکار نے دس ساتھی مار دیے

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان کے جنوبی صوبے ارزگان میں ایک افغان پولیس اہلکار نے اپنے دس ساتھیوں کو نشہ آور دوا پلانے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ متعلقہ پولیس اہلکار مزاحمت کاروں سے ملا ہوا تھا۔
تفصیلات کے مطابق اہلکار نے بعد میں پولیس والوں کے ہتھیار چوری کر لیے اور چوکی کو آگ لگا دی۔
غیر ملکی فورسز اور افغان فوجیوں پر پہلے بھی کئی مرتبہ اندر سے ہی حملے ہوتے رہے ہیں اور افغانستان میں اس پر بہت تشویش پائی جاتی ہے۔
لیکن حالیہ برسوں میں نیٹو فورسز کی طرف سے خصوصی اقدامات لیے جانے کے بعد اس طرح کے حملوں میں کمی آئی ہے۔
اندر سے ہونے والے حملوں میں سو غیر ملکی فوجی اور کئی افغان پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغان پولیس اپنی صفوں میں کم حوصلے، بھرتی کی بری سطح اور محکمہ چھوڑ کر بھاگنے والوں کی وجہ سے بہت بدنام ہے۔
حالیہ برسوں میں کچھ پولیس اہلکاروں پر کرپشن، اغوا، منشیات کا استعمال، قتل اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات بھی لگے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ارزگان صوبے کے چنارتو ڈسرکٹ میں حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ اس صوبے کی سرحد طالبان کے مضبوط گڑھ ہلمند اور قندھار سے ملتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے بھی چار پولیس اہلکاروں نے ارزگان میں اپنے نو ساتھیوں کو ہلاک کر دیا تھا اور پھر اسلحہ سمیت طالبان میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

،تصویر کا ذریعہf







