افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے رہنما کو ٹیلی فون

حالیہ مہینوں میں نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ نے پاکستان کے ساتھ مشرقی افغانستان کے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور اسے شام اور عراق میں اعلان کردہ خلافت کا ایک صوبہ قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن رولیٹ نے وہاں دولتِ اسلامیہ کے ایک رہنما سے بات کی۔

یہ عجیب لگتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے کسی کمانڈر کو فون کیا جائے۔ چونکہ اس تنظیم کی ساکھ ایک سفاک اور سر قلم کرنے والوں کی حیثیت سے ہے لہٰذا یہ کافی مشکل امر ہے کہ اس کام کے لیے کس طرح کے شخص کا انتخاب کیا جائے۔

شاید میں اس سے بات نہ کر پاؤں کیونکہ جب بھی ہم کال ملاتے یہی جواب آتا کہ نمبر سے رابطہ ممکن نہیں۔

افغان سروس کے ایک ساتھی عبداللہ نظامی نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ’طالبان نے موبائل فون ٹرانسمیٹرز کو تباہ کر دیا ہے اس لیے کوریج بہت بری ہے۔ ‘

نظامی کا تعلق بھی مشرقی افغانستان کے اس پہاڑی صوبے سے ہے جہاں دولتِ اسلامیہ قبضہ کر رہی ہے۔

وہ زندانی کو جانتے تھے جس کے نام کا لفظی مطلب ’قیدی‘ ہے۔

زندانی اپنی نو عمری سے ہی طالبان کے لیے لڑتے رہے گذشتہ برس اپنی وفا داریاں دولتِ اسلامیہ یا افغانستان میں داعش کے نام سے جانی جانے والی اس تنظیم کے ساتھ وابستہ کر لیں ہیں۔

نظامی نے مجھے بتایا کہ یہاں ننگرہار صوبے میں کئی طالبان مایوس ہو چکے ہیں۔

دو سال قبل ملا عمر کی موت ہوجانے کے انکشاف کے بعد طالبان کی تنظیم میں بے یقینی پھیلی ۔ ملا عمر اس تنظیم کے بانی تھے اور اسے ایک قومی تحریک بنایا تھا۔

ملا عمر کے بعد تنظیم کا اتحاد متزلزل ہونے لگا۔ طالبان کے نئے رہنماؤں کا تعلق جنوبی افغانستان سے تھا اور ایسا ملک جہاں قبائلی وفاداریاں بہت مضبوط ہوتی ہیں دیگر علاقوں کے طالبان کو احساس ہونے لگا کے وہ غیر متعلق ہو رہے ہیں لہٰذا اس چیز نےدولتِ اسلامیہ کے لیے گنجائش پیدا کر دی۔

زیادہ تر پاکستانیوں پر مشتمل یہ دولتِ اسلامیہ کے حمایتی مایوس طالبان کو بھرتی کر رہے ہیں۔

یہ لوگ ایک عالمی جہاد میں حصہ لینے کے بدلے انھیں پیسوں اور اسلحے کی پیش کش کرتے ہیں۔

ہم نے زندانی کو پھر کال کی۔ پھر سے وہی جواب ملا۔

دیگر شدت پسند تنظیموں کے بر عکس دولتِ اسلامیہ کا بڑا مقصد اراضی پر قبضہ کرنا ہے۔ اس تنظیم کے ارکان ایک قول استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب ہے پھیلنے اور قائم رہنے والا۔

اگرچہ اس تنظیم کے عالمی سطح پر حملوں نے شام اور عراق میں اس کی خلافت دفاعی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

اسی لیے اس کی افغانستان میں پھیلاؤ کافی زیادہ ہے۔ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے باعث اس کے طریقۂ کار میں تبدیلی آئی ہے۔ پینٹا گان کے مطابق تنظیم کا مقصد ایک محفوظ پناہ گاہ بنانا ہے جو قدرے زیادہ محفوظ گڑھ ہو سکتا ہے جہاں سے دنیا بھر میں حملے کیے جائیں۔

اس تنظیم کے ارادوں کی قیمت تاحال صرف مقامی لوگوں نے ادا کی ہے۔ علاقے کے مرکزی شہر جلال آباد میں میرے بی بی سی کے دو ساتھیوں نے 40 پناہ گزینوں کے گروہ سے ملاقات کی۔ وہ ان سینکڑوں خاندانوں میں سے ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے باعث بے گھر ہوئے۔

انھوں نے وہاں تشدد کی خوفناک داستانیں سنائیں۔

رحمان ولی نامی شخص دولتِ اسلامیہ کی پروپیگینڈا ویڈیو میں پہلے اپنے دوستوں اور پھر اپنے بھائی کو دیکھ کر رو پڑا۔ اس نے ویڈیو روک دی اور کہا کہ وہ جانتا ہے کہ آگے کیا آنے والا ہے۔

اس کے بھائی رحمان گل اور نو دیگر گاؤں والوں کو زبردستی زمین میں دفن کیے گئے بموں پر بٹھایا گیا۔ اس کے بعد بموں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

ان پناہ گزینوں نے بتایا کے سینکڑوں مرد لا پتہ ہیں۔ جن میں بیشتر مخالف ملیشیا کے ارکان یا مقامی سیاستدان ہیں۔

میں نے زندانی کا نمبر پھر ملایا۔ میں قریباً مایوس ہوچکا تھا لیکن اس مرتبہ رابطہ ہوگیا۔

’اسلام علیکم‘ میں نے سلام کیا۔

میں نے سوال کیے کے ’آپ نے دولتِ اسلامیہ میں کیوں شمولیت اختیار کی، وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ وہ دولتِ اسلامیہ کے اقدامات کی کیا توجیہہ دیں گے۔ ‘ اور مجھے ان سوالوں کے متوقع جواب ملے۔

جیسن برک جو اسلامی شدت پسندی کے ماہر ہیں ان کے بقول عالمی جہاد کو بین الاقوامی سطح پر پھیلانے کی سوچ حالیہ دہائی میں اسلامی جہاد میں سب سے بڑی کامیابی ہے۔

یعنی برطانیہ ، امریکہ ، ترکی، انڈونیشیا، برکینا فاسو یا افغانستان کے دور دارز علاقے کے شدت پسند اپنے تشدد کی ایک ہی توجیہہ دیں گے۔

زندانی نے مجھے بتایا کہ طالبان ان کے لیے بہت صوبائی ہیں، وہ بین الاقوامی جہاد کے لیے لڑنا چاہتے ہیں۔

انھوں نےاسلامی تحریروں کے اقتباسات سے قتل معاف کرنے کا حوالہ بھی دیا۔

میں اس بات کی امید کر رہا تھا کہ وہ اس بات پر غصہ کریں گے جب میں نے ان سے کہا کہ مسلمان عالم کہیں گے کہ ان کے مقدس پیغامات کی تاویلیں اسلام کی بے عزتی ہیں تاہم وہ پرسکون رہے۔

زندانی نے مجھے بتایا کہ وہ ضلع آچن میں لڑتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ مزید حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’اس وقت ہم تین ضلعوں میں موجود ہیں تاہم ہم صرف ایک صوبے میں لڑ رہے ہیں، دوسرے لفظوں میں ہم اپنے رہنما کے احکامات کا انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد ہم لڑیں گے۔‘

مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوئی کہ زندانی کو اس بات کی بالکل بھی پروا نہیں تھی کہ زیادہ تر متاثرہ افراد افغانی اور مسلمان تھے۔

میرے لیے یہ ٹیلی فونک گفتگو بہت زیادہ پریشان کن تھی اور میں نے اس سے پہلے ایسی گفتگو کبھی نہیں سنی تھی۔

میرے لیے یہ بات بہت پریشان کن تھی کہ زندانی اپنے ہم عصر جنگجوؤں کی جانب سے اپنے ہی افراد پر کیے جانے والے مظالم پر کس طرح لاتعلق تھے؟

بی بی سی کے ساتھ کام کرنے والے ایک اور صحافی زندانی سے ان پہاڑیوں پر ملے جہاں ان کے دیگر جنگجو رہتے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ کسی غیر ملکی شدت پسند گروپ نے افغانستان کے مشرقی حصے کے پہاڑوں پر اپنی بیس بنائی ہو۔

تورہ بورا غار کمپلیکس بھی اسی صوبے میں واقع ہے جہاں دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔

ایک بات بالکل واضح ہے کہ دولتِ اسلامیہ کا افغانستان میں کہیں کوئی وجود نہیں ہے۔

ایک ابھرتا ہوا خطرہ یہ ہے کہ افغانستان میں نیٹو کا مشن دسمبر سنہ 2014 میں ختم ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے ’ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ دولتِ اسلامیہ اس وقت افغانستان میں مقامی طرز پر اپنا کام کر رہی ہے تاہم اس کے باوجود ہم کوئی چانس نہیں لے رہے ہیں۔‘

میرا تاثر یہ تھا کہ وہاں کوئی غیر معمولی چیز نہیں سوائے زندانی کے کیونکہ زندانی کی طرح کے دوسرے تمام مرد ہر دوسرے ہفتے خوفناک مظالم ڈھاتے ہیں۔