چین میں حقوقِ انسانی کے سوئیڈش کارکن کی’گرفتاری‘

،تصویر کا ذریعہtwitter
چینی حکام نے سیاسی مخالفین اور سماجی کارکنوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران مبینہ طور پر بیجنگ میں سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک کارکن کو گرفتار کر لیا ہے۔
چین میں انسانی حقوق کی تنظیم چائنا ایکشن کا کہنا ہے کہ تنظیم کے بانی پیٹر ڈیہلن کو رواں سال جنوری کی چار تاریخ کو ایئرپورٹ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔
سوئیڈش حکام کا کہنا ہے کہ وہ چین میں اپنی شہری کی حراست کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
چائنا ایکشن خود کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم کہتی ہے۔ یہ تنظیم دیہی علاقوں میں کام کرنے والے اُن وکلا کی مدد کرتی ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہوتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی یہ تنظیم اُن گروہوں یا لوگوں کو انفرادی طور پر بھی امداد فراہم کرتی ہے جنھیں حقوق کی پامالی کا سامنا ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق منگل کو چین میں کئی وکلا پر ’آئین کی پامالی‘ کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تنظیم کا کہنا تھا کہ 35 سالہ ڈیہلن کو ’ریاستی سلامتی خطرے‘ میں ڈالنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہےکہ ’پیٹر کو جعلی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔‘
تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکام ڈیہلن سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دے رہے۔
ان کے مطابق ڈیہلن ایک ایڈرینل گلینڈز کی خرابی کا شکار ہیں جس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر دوائیں لینا ضروری ہوتا ہے۔
سوئیڈن کی وزارت خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا گیا ہے کہ ایک 35 سالہ سوئیڈش باشندے کو چین میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ٹویٹ میں کہا گیا ہے ’ہمارا سفارت خانہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے اور ان (ڈیہلن) سے ملنے کی درخواست کی گئی ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز نے چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان ہونگ لی کے حوالے سے کہا ہے کہ انھیں ایسی کسی گرفتاری کا علم نہیں ہے۔







