ممبئی کے مفرور ڈان داؤد ابراہیم کی جائیداد نیلام

،تصویر کا ذریعہAshwin Aghor
بھارت کے شہر ممبئی میں انڈرورلڈ کے مفرور سرغنہ داؤد ابراہیم کی جائیداد نیلام کی جا رہی ہیں اور بولی لگانے والوں میں تاجروں کے علاوہ آل انڈیا ہندو مہاسبھا اور ایک سینیئر صحافی بھی شامل ہیں۔
<link type="page"><caption> ڈان ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/05/150512_india_diary_suhail_haleem_mb" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بی جے پی کو اب بس داؤد ابراہیم کا انتظار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/04/140401_india_diary_suhail_haleem_mb" platform="highweb"/></link>
یہ نیلامی جنوبی ممبئی کے ہوٹل ڈپلومیٹ میں ہو رہی ہے۔ داؤد ابراہیم کی نیلام کی جانے والی املاک میں ایک کار، ایک ہوٹل اور ماٹگا میں واقع داؤد کا گھر بھی شامل ہے۔
ایک نجی کمپنی یہ نیلامی سمگلرز اینڈ فارن ایکسچینج مینوپلیٹرز ایکٹ 1976 کے تحت کر رہی ہے۔ نیلامی کا اپنی نوعیت کا یہ دوسرا معاملہ ہے۔
داؤد کے ہوٹل ’دہلی ذائقہ‘ کو سینیئر صحافی ایس بالا کرشنن کی حب الوطنی تحریک تنظیم نے 4.28 کروڑ کی بولی لگا کر خرید لیا ہے۔ اس کم از کم قیمت 1.18 کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔
اس کے علاوہ آل انڈیا ہندو مہاسبھا نے داؤد کی کار 30 ہزار روپے میں خریدی ہے۔ اس کار کی کم از کم قیمت 15700 روپے رکھی گئی تھی۔

ادارے کے صدر چندر روشنی کوشک نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے یہ کار صرف اس خریدی ہے تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ داؤد ابراہیم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہمیں اس سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ اس بار ہمیں نیلامی میں حصہ لینے کے لیے کافی وقت نہیں مل پایا ہے لیکن مستقبل میں جب بھی داؤد کی جائیداد کی نیلامی ہوگی، ہم بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماٹگا میں واقع مہاویر بلڈنگ میں داؤد کے نام پر 32.77 مربع میٹر کا ایک گھر بھی ہے، جس کی کم از کم قیمت 50 لاکھ 44 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔
اس عمارت میں کل 315 خاندان رہتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اپنے کمرے خالی کر چکے ہیں اور اس عمارت کو دوبارہ بنانے کا کام چل رہا ہے۔
بھارتی پولیس ایک طویل عرصے سے داؤد ابراہیم کو تلاش کر رہی ہے۔ وہ سنہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں پولیس کو مطلوب ہیں اور ان کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAshwin Aghor







