تاج محل کو بچانے کے لیے شمشان گھاٹ کی منتقلی کا حکم

تاج محل شاہ جہاں نے سنہ 1653 میں اپنی بیوی ممتاز محل کے لیے بنوایا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنتاج محل شاہ جہاں نے سنہ 1653 میں اپنی بیوی ممتاز محل کے لیے بنوایا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے محبت کی علامت سمجھے جانے والے تاج محل کے قریب واقع ایک شمشان گھاٹ کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق تاج محل کو لکڑیوں کے جلنے سے ہونے والی آلودگی سے بچانے کے لیے اس شمشان گھاٹ کو وہاں سے ختم کیا جائے۔

<link type="page"><caption> تاج محل کی اصل داستان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/06/140625_taj_mahal_real_story_sa" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> تاج محل کا فانوس کیسے گرا؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/08/150822_taj_mahal_chandelier_carsh_zz" platform="highweb"/></link>

عدالت کا یہ حکم ایک جج کی اس تنبہہ کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس دھوئیں سے 17ویں صدی کے سنگِ مرمر کی تاریخی عمات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

بھارت میں اکثریت ہندؤوں کی ہے اور وہ مُردوں کو آخری رسومات میں جلاتے ہیں۔

عدالت نے ریاست اتر پردیش کے حکام سے کہا ہے کہ یا تو اس شمشان گھاٹ کو منتقل کریں یا پھر یہاں بجلی سے چلنے والا شمشان گھاٹ بنائیں۔

ریاست کے وکیل نے عدالتی فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔

وجے بھردجواد سنگھ کا کہنا تھا ’یہ ایک اچھی صلاح ہے میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ مجھے دو ہفتوں کا وقت دیں میں اس کے حل کے ساتھ آؤں گا۔‘

تاہم شمشان گھاٹ کے عملے نے آلودگی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

شمشان گھاٹ کے مینیجر سنجے سنگھ نے ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’مردہ جلاتا ہوئے گھی، کافور، صندل اور گوبر کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘

تاج محل شاہ جہاں نے سنہ 1653 میں اپنی بیوی ممتاز محل کے لیے بنوایا تھا جو اس کے 14ویں بچے کو جنم دیتے ہوئے مر گئی تھی۔

تاجل محل سفید سنگِ مر مر سے بنا ہے۔ اسے یونیسکو نے سنہ 1983 میں عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا تھا۔