گائے کےگوشت پر بننے والی فلم متنازع کیسے ؟

یہ فلم ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پانچ طلبا کےگروپ نے بنائی ہے

،تصویر کا ذریعہSpecial Arrangement

،تصویر کا کیپشنیہ فلم ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پانچ طلبا کےگروپ نے بنائی ہے

بھارت میں گائے کا گوشت کھانے کی عادات پر بننے والی دستاویزی فلم کو دہلی میں ہونے والے حالیہ فلم فیسٹیول سےواپس لے لیا گیا۔ لیکن کیا یہ فلم واقعی گائے کا گوشت کھانے کے بارے میں تھی؟

بی بی سی کے وکاس پانڈے نے اس بارے میں فلم بنانے والے طلبا سے بات کی ہے۔

ریتیکا ریواتھے سبرامنیم کا کہنا ہے کہ وہ ابھی بھی اس فلم پر ہونے والی ’مکمل طور پر قابل گریز بحث‘ پر ’صدمے‘ میں ہیں۔

فلم ’کاسٹ آن دی مینیو کارڈ‘ فہرست میں شامل 35 فلموں میں سے ایک ہے جسے گذشتہ ہفتے بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات کے پاس ’تکنیکی‘ وجوہات کی بنا پر مسترد کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

سبرمنیم کا کہنا تھا کہ ’یہ دستاویزی فلم موجودہ عدم برداشت کے ماحول کا نشانہ بنی ہے۔‘

اس فلم کو گذشتہ سال جولائی اور اگست کے درمیان بنایا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہCaste on the Menu Card

،تصویر کا کیپشناس فلم کو گذشتہ سال جولائی اور اگست کے درمیان بنایا گیا تھا

انھوں نے کہا کہ ’سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ لوگوں نے اس فلم کو دیکھے بنا ہی اس کے خلاف اپنی آرا قائم کر لی ہیں۔ یہ گائے کاگوشت کھانے کے بارے میں نہیں ہے، اس فلم میں بھارت میں ذات پات کے نظام اور کھانے کی عادات سے جڑے مسائل کا گہرائی سے احاطہ کرتی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے اس فلم میں گائے کے گوشت کا ذکر اس لیے کئی بار کیا ہے تاکہ ذاتوں سے جڑی کھانوں کی عادات کو دیکھا جا سکے۔‘

گائے کا گوشت گذشتہ کئی ماہ سے بھارت میں ایک حساس مسئلہ بنا ہوا ہے۔ کئی ریاستی حکومتیں سرکاری طور پر گائے کے گوشت کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر چکی ہیں۔

تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کھانے کا انتخاب ہر شخص کی اپنی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس دستاویزی فلم میں بھارت میں ذات کے نظام اور کھانوں کی عادات کو دکھایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہCASTE ON THE MENU CARD

،تصویر کا کیپشناس دستاویزی فلم میں بھارت میں ذات کے نظام اور کھانوں کی عادات کو دکھایا گیا ہے

بھارت میں کئی مصنف اور فلم بنانے والے اپنے ایوارڈز واپس کر چکے ہیں جس کی وجہ ان کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت ہے۔

سبرامنیم مصنفوں اور فلم بنانے والوں کے اس اقدام کی حمایت کرتی ہیں۔

اس فلم کو بنانے میں ان کا ساتھ دینے والے وسیم چوہدری کا کہنا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس فلم کی شوٹنگ گذشتہ سال جولائی اور اگست کے درمیان کی گئی تھی۔

’ہم نے اس فلم کی شوٹنگ گائے کے گوشت کے نیشنل ٹی وی چینلز پر بحث بننے سے کافی پہلے کر لی تھی۔ہم نے اس فلم کو حالیہ تنازع کے تناظر کی وجہ سے نہیں بنایا ہے۔‘

وسیم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی مسئلہ پر بات کرنے کے لیے آزاد ماحول ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری فلم کو فلم فیسٹیول سے روکنا صحیح قدم نہیں ہے۔ ہم کسی کی طرفداری نہیں کر رہے، ہم صرف اس مسئلے پر کھلی بحث کرنا چاہتے ہیں۔‘