ایران جوہری معاہدہ: ’سینٹری فیوجز کم کرنے کا کام شروع‘

علی اکبر صالحی نے جاپان میں سینٹری فیوجز کم کرنے کی بات کہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعلی اکبر صالحی نے جاپان میں سینٹری فیوجز کم کرنے کی بات کہی ہے

ایران نے یورینیم کی افزودگی کے کام کو بند کرنے کی ابتدا کر دی ہے تاکہ جولائی میں دنیا کے چھ اہم ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی پاسداری ہو سکے۔

یہ بات ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ نے اپنے جاپان کے دورے میں کہی۔

علی اکبر صالحی نے بتایا کہ سینٹری فیوجز کی تعداد کو کم کرنے کا ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے لیکن اس میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پوری طرح پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

جولائی کے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ ایران کی حساس جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے کے بدلے اس پر عائد پابندیاں ہٹا لی جائيں گی۔

یہ معاہدہ ایران اور چھ عالمی قووتوں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے درمیان 20 ماہ کی بات چیت کے بعد ہوا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر نے جوہری معاہدے کی مشروط توثیق کی ہے

،تصویر کا ذریعہkhamenai.ir

،تصویر کا کیپشنایران کے سپریم لیڈر نے جوہری معاہدے کی مشروط توثیق کی ہے

جاپان کی کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق مسٹر صالحی نے کہا کہ کئی فعال سینٹری فیوج مشین کی تعداد کو کم کرنے پر کام کی ابتدا ہو چکی ہے۔

یہ مشینیں یورینیم کی افزودگی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی تعداد میں کمی کرنا معاہدے کا مرکزی حصہ تھا۔

اس بابت کام کی ابتدا کی تصدیق تہران سے بھی ہوئی ہے۔ تقریباً 20 سخت گیر اراکین پارلیمان نے صدر حسن روحانی سے تحریری شکایت کی ہے کہ نتانز اور فوردو کے دو پلانٹ میں سینٹری فیوجز کو کم کرنے کا کام بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ ماہ اس جوہری معاہدے کی مشروط توثیق کی ہے۔

ایران کی پارلیمان نے بھی گذشتہ ماہ اس معاہدے کی تصدیق کی ہے اور اسی طرح امریکی کانگریس نے بھی اسے منظوری دے دی ہے کیونکہ ریپبلیکنز اس معاہدے کو روکنے میں ناکام ہو گئے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سنہ 2006 سے 2015 کے درمیان ایران میں یورینیم کی افزودگی کو روکنے کے لیے سات قرارداد منظور کی۔