بنگلہ دیش: اطالوی شہری کے قتل کے الزام میں چار افراد گرفتار

اطالوی شہری پر حملے کی ذمے داری نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناطالوی شہری پر حملے کی ذمے داری نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے

بنگلہ دیش کی پولیس کے مطابق اطالوی امدادی کارکن کے قتل میں ملوث چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

رواں سال ستمبر کے آخر میں 50 سالہ سیزر ٹویلّا کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

اطالوی شہری پر حملے کی ذمے داری نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کر لی تھی جبکہ انھوں نے اس واقعے کے چند روز بعد جاپانی شہری کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

تاہم بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے ان دعووں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے بنگلہ دیش میں کسی واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ ان کی جانب سے اب تک وہاں اس تنظیم کی کسی شاخ کے قیام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ڈھاکہ پولیسں کے ترجمان منتصر الاسلام نے بتایا کہ اتوار کے روز گرفتار ہونے والے افراد میں سے تین پر براہ راست ٹویلّا کے قتل کا الزام ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق بنگلہ دیش میں غیر ملکیوں پر شاذونادر ہی حملے کیے جاتے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں انتہا پسندوں کی جانب سے تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں خدا کے منکر بلاگرز (آن لائن مضامین لکھنے والے) پر حملے بھی میں شامل ہیں۔