’بھارت کی مبینہ جارحیت منظم پالیسی کا حصہ ہے‘

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی سراہا

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنسینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی سراہا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے اسے بھارت کی منظم پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید کی سربراہی میں جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ مذمتی قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر کے عوام کو اُن کا حق خودارادیت دیے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

اس قرارداد میں بھارت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق پاکستان کی پالیسی درست قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ بھارت میں بی جے پی کی نئی حکومت کے آنے کے بعد جارحانہ کارروائیاں بڑھی ہیں۔

اس قرار داد میں کہا گیا کہ بھارت دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور عالمی برادری کو اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔

سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عالم خٹک کی طرف سے کمیٹی کے ارکان کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سنہ 2015 میں بھارتی فوج نے 221 مرتبہ جارحیت کا مظاہرہ کیا، جس میں 26 افراد ہلاک اور 71 زخمی ہوئے جبکہ اس کے برعکس پاکستانی فورسز بھارتی آبادیوں کو نہیں بلکہ چوکیوں کو نشانہ بنا کر مؤثر جواب دیتی ہیں۔

سیکرٹری دفاع نے کہا کہ بھارت پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے بارے میں کسی شک و شبہے میں نہ رہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ریاستیں ہیں جنگ چھڑی تو ہولناک تباہی ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی افواج کسی بھی بیرونی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو پاکستانی افواج کی صلاحیتوں کا اندازہ ہے اس لیے وہ ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اُنھوں نے کہا کہ نریندر مودی کی پالیسی بھارت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھارتی افواج کی جارحیت سے متعلق قرارداد پیش کرنے سے پہلے حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس بارے میں بھارتی حکومت میں شامل کسی شخصیت (وزیر اعظم ) کا نام لیے بغیر بین الاقوامی برادری پر زور ڈالا جائے کہ وہ بھارتی جارحیت کا نوٹس لے تاہم کمیٹی کے دیگر ارکان نے فرحت اللہ بابر کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔