27 سال نوکری کے بعد بھی تنخواہ 25 روپے

’وہ استاد بھی ریٹائر ہو گئے جو میرے سامنے اس سکول میں کام کرتے تھے۔ میں نے ان 25 روپے کے پیچھے مر رہا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’وہ استاد بھی ریٹائر ہو گئے جو میرے سامنے اس سکول میں کام کرتے تھے۔ میں نے ان 25 روپے کے پیچھے مر رہا ہوں‘
    • مصنف, ماجد جہانگیر
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، سرینگر

یہ بات 27 سال پہلے کی ہے۔ کشمیر کے بھاڈي پورہ قصبے کے 70 سال کے محمد سبحان وانی کو سرکاری سکول میں 25 روپے تنخواہ پر خاکروب اور چوکیدار کی نوکری ملی تھی۔ دہائیوں بعد جب وہ ریٹائر ہوئے تب بھی ان کی تنخواہ 25 روپے تھی۔

یہی نہیں، بلکہ 2005 میں جب سبحان وانی ریٹائر ہوئے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے کو نوکری پر رکھا گیا تو اس کی تنخواہ بھی 25 روپے ہی طے ہوئی۔

سبحان کا غم صرف یہی نہیں۔ انھوں نے کام اور معاوضے کے وعدے پر سکول کے لیے زمین دی تھی۔ معاوضہ سرکاری کاغذوں میں کہیں گم ہو گیا اور ان کی تنخواہ بس خاندان میں ہنسی مذاق کا موضوع ہے۔

یہ پورا معاملہ سال 88-1987 میں شروع ہوا۔ اس وقت کے زونل تعلیم افسر شیلا ٹيكو نے محمد سبحان سے کہا تھا کہ وہ حکومت کو سکول کے لیے اپنی زمین دیں، بدلے میں انھیں نوکری دی جائے گی اور زمین کا معاوضہ تو ملے گا ہی۔

سبحان وانی کہتے ہیں: ’1988 میں مجھے کام دینے کا حکم دیا گیا جس کے مطابق میری تنخواہ ہر ماہ 25 روپیہ مقرر کی گئی۔ انھوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ اگر میں اپنی زمین سکول کے لیے دے دوں تو حکومت آنے والے دنوں میں میری تنخواہ بڑھا دے گی۔‘

’لیکن اس وقت سے لے کر آج تک میری تنخواہ نہیں بڑھی۔ وہ استاد بھی ریٹائر ہو گئے جو میرے سامنے اس سکول میں کام کرتے تھے۔ میں نے ان 25 روپے کے پیچھے مر رہا ہوں۔‘

بیٹے کو لگایا

’پڑھا لکھا نہ ہونے کی وجہ سے مجھے پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔ میرے بچے بھی مجھ سے بہت ناراض ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’پڑھا لکھا نہ ہونے کی وجہ سے مجھے پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔ میرے بچے بھی مجھ سے بہت ناراض ہیں‘

ان کا کہنا ہے کہ جو زمین انھوں نے سکول کے لیے دی تھی اس پر ان کے اخروٹ کے درخت تھے جن کو کاٹے جانے سے ان سے بڑا نقصان ہوا۔

’ہر سال ہزاروں کی کمائی ہوتی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گا۔‘

سبحان نے عدالت کا بھی رخ کیا تھا لیکن ان کے پاس مقدمہ لڑنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔

اس کا اثر سبحان کے خاندان کی زندگی پر بھی پڑا۔

وہ کہتے ہیں: ’پڑھا لکھا نہ ہونے کی وجہ سے مجھے پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔ میرے بچے بھی مجھ سے بہت ناراض ہیں۔ بچوں کو باپ سے امید ہوتی ہے کہ باپ بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ بچا کے رکھے گا لیکن میرے پاس تو وہی 25 روپے ہیں۔ میں وہ کس کس کو دوں؟‘

سبحان کے بیٹے ممتاز احمد کا کہنا ہے کہ ان کو گذشتہ دو سال سے 25 روپے کی وہ تنخواہ بھی نہیں ملی ہے۔

ضلع بھاڈي پورہ کے تعلیم کے افسر عبدالحمید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ معاملہ صرف ان کا نہیں ہے بلکہ ان کے زون میں ایسے 200 لوگ ہیں جو سالوں سے 25 روپے کی تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔

معاہدہ

عبدالحمید کہتے ہیں: ’یہ سکیم ان لوگوں کے لیے ہے جنھیں چوتھی قسم میں نوکری دی جاتی ہے یعنی جنھوں نے آٹھویں جماعت پاس کی ہو۔ رہی بات معاوضے کی تو ان کے پاس معاہدہ ہے تو ہم اس کو دیکھیں گے۔‘

ان کے مطابق: ’ان سیدھے سادھے اور ان پڑھ لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور یہ بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ 25 روپے کی تنخواہ تو مذاق ہے۔‘

’اگر محمد سبحان کی تنخواہ بڑھتی رہتی تو اس وقت کم از کم 12 ہزار روپے ہوتی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’اگر محمد سبحان کی تنخواہ بڑھتی رہتی تو اس وقت کم از کم 12 ہزار روپے ہوتی‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر محمد سبحان کی تنخواہ بڑھتی رہتی تو اس وقت کم از کم 12 ہزار روپے ہوتی۔

سبحان اپنی تنخواہ اور زمین کا معاوضہ حاصل کرنے کے لیے گذشتہ 28 سالوں سے سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ہر بار یہی سن رہے ہیں کہ اس دفتر میں نہیں اس دفتر میں جاؤ۔

اور ان کے 25 روپے کی تنخواہ میں تو اب ادویات بھی نہیں آتیں۔