بھارت اسرائیل کا ابھرتا اتحادی؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت نے سنہ 2014 میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کی ایک رپورٹ پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس رپورٹ میں غزہ میں شہریوں کی ہلاکت کے معاملات کی تفتیش اور تعین کےلیے بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
بھارت نے اس رپورٹ کے حق میں ووٹ نہ دے کر اسرائیل کی براہ راست حمایت کی ہے۔
اسرائیل کی سرزنش کرنے والی اس رپورٹ کی حمایت میں کونسل کےموجودہ آٹھ یورپی ممالک سمیت 41 ملکوں نے رپورٹ کے حق میں ووٹ دیا جبکہ بھارت کینیا، پیراگوئے، مقدونیہ اور ایتھوپپیا کے ساتھ ووٹنگ میں غیر جانبدار رہا۔
امریکہ واحد ملک تھا جس نے اس رپورٹ کے خلاف ووٹ دیا۔
بھارت ابھی تک اسرائیل اور فلسطین تنازعہ میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔ اس نے پر امن مذاکرات کےذریعے ایک فلسطینی مملکت کے قیام کی ہمیشہ حمایت کی اور ماضی میں اسرائیل کی جانب سے ہونے والی زیادتیوں کی ہمیشہ مخالفت اور مذمت کی۔
ابھی گذشتہ برس اس نے فلسطینی خطے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں جنگی جرائم کی انسانی حقوق کی کونسل کےذریعےتفتیش کرانے کی قرارداد کی حمایت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فلسطینی حکومت نے بھارت کے فیصلے کو ’شاکنگ اور تکلیف دہ ‘ قرار دیا ہے ۔ نئی دہلی میں مامور فلسطینی سفیر کا کہنا تھا کہ ہزاروں شہریوں کے قتل کے معاملےکو جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں لےجانےکی جو تھوڑی بہت امیدیں تھی وہ بھارت کے اسرائیل کا ساتھ دینے کےسبب ختم ہوگئیں۔
بھارت کے بقول اس کے ’غیر جانبدار‘ رہنے کی ووٹنگ کو ادھر تل ابیب میں ’غیر معمولی‘ قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی حکومت بھارت کی نئی حکومت سے کافی خوش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کی وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ چونکہ وہ بین الاقوامی عدالت کے چارٹرکا حصہ نہیں اس لیے وہ ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرتا جس میں کسی معاملے کو بین الاقوامی عدالت میں لے جانے کی بات کہی گئی ہو۔ لیکن وزارت خارجہ کی وضاحت کےبرعکس ماضی میں کئی ایسے معاملےآئے ہیں جب بھارت نے بین الا قوامی عدالت سےرجوع کرنے والی قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا ہے ۔
سنہ 2012 میں بھارت نے شام کےجنگی جرائم کی تفتیش کے لیے ایسی دو قراردادوں کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔
بہترین دفاعی ساز و سامان اور مشینری، کاشت کاری، ڈیری اور آبپاشی جیسےشعبوں میں اسرائیل کی غیر معمولی مہارت کےسبب گزرے ہوئے سالوں میں اسرائیل سے بھارت کےتجارتی اوردفاعی تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں ۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد بھارت اسرائیل کے بہت قریب آیا ہے ۔حکمران جماعت کے صدر سمیت کئی اہم وزرا اور رہنما اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس کی پیش رو جماعت جن سنگھ اوراس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس اپنے مسلم مخالف نظریات کے سبب سنہ 1948 سے ہی اسرائیل کی حمایتی رہی ہیں۔گذشتہ دنوں اسرائیل کی زیادتیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی رپورٹ کی حمایت نہ کرنا اسرائیل سے بھارت کی بڑھتی ہوئی قربت کا عکاس ہے ۔
اسرائیل اور بھارت کی بڑھتی ہوئی اس قربت کو اس وقت اور زیادہ تقویت حاصل ہوگی جب وزیر اعظم آئندہ مہینوں میں اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اسرائیل کا دورہ کرنےوالے وہ پہلے بھارتی سربراہ حکومت ہونگے۔







