بھارت کے سب سے زیادہ ’مشتعل‘ شہری

،تصویر کا ذریعہAfp

سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر بھارت کے سب سے زیادہ مشتعل شخص ’The most outraged man of India‘ کے نام سے جانے جانے والے سکھ بھارتی شہری نے بی بی سی کو اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ’دہلی کی سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کا چہرہ‘ ہیں۔

گذشتہ کچھ برسوں میں 43 سالہ شہری نے ہر موضوع پر مظاہرے کرتے ہوئے تصاویر کھنچوائیں۔ بھارتی اخبار نے مضمون شائع کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ شہری کون ہیں اور کون سی بات انھیں مظاہرے کرنے پر اکساتی ہے۔

سکھ شہری پرمیندر سنگھ پوما نے بی بی سی ہندی کی پارول اگرول کو بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے آغاز ہی میں اضطراب کا شکار ہونے لگے تھے۔

مسٹر پوما نے کہا کہ اُن کے والد نے 16 سال کی عمر میں انھیں مظاہروں کی دنیا سے متعارف کروایا اور وہ نہ صرف ’خطرناک احتجاجی‘ تھے بلکہ ’جلسوں کی قیادت‘ بھی کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBc

،تصویر کا ذریعہBBc

انھوں نے 14 سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے اُن کی تعلیم مڈل تک ہی محدود ہے لیکن تعلیم کی کمی کے باوجود وہ عالمی یا علاقائی مسائل پر اپنی رائے دینے سے کبھی نہیں چوکتے۔

پوما نے کہا: ’میں ایک عام آدمی ہوں اور جب بھی کوئی عام شہری پریشان ہوتا ہے تو مجھے غصہ آتا ہے۔‘

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن پر انھیں غصہ آتا ہے۔

مسٹر پوما نے کہا کہ انھوں نے سنہ 1997 میں قومی عقلی دل نامی گروہ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ’ملک کے عام شہریوں کے لیے آواز اٹھانا‘ اور ’سیاسی جماعتوں کے غلط کاموں کو منظرعام پر لانا‘ تھا۔

دلی کے قدیم صدر بازار میں ایک درزی کی دوکان چلانے سے لے کر مظاہروں میں شریک ہونے تک اُن کا کہنا ہے کہ انھیں ’زندگی میں بہت قربانیاں دینی پڑی ہیں۔

جذباتی احتجاج اُن کی صحت پر بھی اثرانداز ہوا ہے۔

پرمیندر سنگھ پوما کہتے ہیں کہ اُن کی بیوی اُن کی صحت کی وجہ سے بہت پریشان رہتی ہیں۔ ’مجھے دو سال قبل دل کی بیماری لاحق ہوئی اور سرجری کے بعد دو مرتبہ سٹنٹ ڈالے گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBc

مسٹر پوما کہتے ہیں کہ احتجاج کے برعکس اپنے گھر میں وہ مختلف شخصیت کے مالک ہیں۔ ’میں بہت جذباتی ہوں اور لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل پر رو پڑتا ہوں۔‘

سوال یہ ہے کہ وہ یہ فیصلہ کیسے کرتے ہیں کہ کس پر احتجاج کرنا ہے؟

’میں دوسروں کے مقابلے میں مختلف انداز میں اخبار پڑھتا ہوں۔ جیسے کون سے مسائل ایسے ہیں جن پر ہمیں آواز اٹھانی چاہیے، کون سے مسائل توجہ چاہتے ہیں۔ پھر لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے اور صحافیوں کو احتجاج کی جگہ بتائی جاتی ہے۔‘

گذشتہ کئی برسوں سےعالمی رہنماؤں کے خلاف احتجاج میں صحافیوں مدعو کیا جانے لگا ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ انھوں نے سب سے زیادہ کس کے خلاف غصے کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا: ’پاکستان۔‘