’طالبان جس مسئلے پر بھی بات کرنا چاہیں، ہم کریں گے‘

’لگتا تھا کہ یہ ٹیم حقانی نیٹ ورک کی بھی نمائندگی کر رہی ہے جو طالبان کی اتحادی تنظیم ہے‘
،تصویر کا کیپشن’لگتا تھا کہ یہ ٹیم حقانی نیٹ ورک کی بھی نمائندگی کر رہی ہے جو طالبان کی اتحادی تنظیم ہے‘

افغانستان کی حکومت نے طالبان کے ساتھ اُن پہلے باضابطہ مذاکرات کو کامیاب قرار دیا ہے جن میں دونوں جانب سے قیامِ امن کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ بات افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں مذاکرات میں شرکت کے بعد دارالحکومت کابل پہنچنے پر بتائی۔

جمعرات کو کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار سید انور سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’انھیں بتایا کہ اگر آئین پر بات کرنی ہے یا کوئی بھی مسئلہ ہے تو اس پر بات کریں گے لیکن ایسے فریم ورک میں بات کریں گے جو ایک عمل کا حصہ ہو۔ اس عمل کا ہدف کیا ہے؟ ملک میں خون ریزی اور جنگ روکی جائے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا ’کوئی شرط نہیں رکھی۔ جس پر وہ بات کرنا چاہتے ہیں اس پر بات کریں گے چاہے وہ قیدیوں کا مسئلہ ہو یا غیر ملکیوں کی واپسی کا۔ ہم ہر مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہیں۔‘

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ آئین کے دو ابواب کے علاوہ دیگر میں تبدیلی ممکن ہے اور ہو سکتا ہے کہ امن مذاکرات میں اس پر بات کی جائے۔

نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کا کہنا تھا کہ پچھلے اور ان مذاکرات میں جو اہم فرق تھا وہ دونوں جانب کی ٹیموں کا سرکاری ہونا تھا۔

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس بات پر قائل ہیں کہ جس ٹیم سے مذاکرات کیے گئے ہیں وہ طالبان رہنماؤں کی طرف سے بھیجے گئے نمائندوں پر مشتمل تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لگتا تھا کہ یہ ٹیم حقانی نیٹ ورک کی بھی نمائندگی کر رہی تھی جو طالبان کی اتحادی تنظیم ہے۔

نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کہا کہ مذاکرات میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

افغان حکومت کے وفد میں شامل فیض اللہ ذکی نے بی بی سی کو بتایا ’ان مذاکرات کی اہم بات یہ ہے کہ پہلے طالبان ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ وہ حکومت سے بات نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ جب بھی کسی قسم کی بات چیت ہوتی تھی تو طالبان بیان جاری کرتے تھے کہ جو مذاکرات میں شامل ہوئے وہ طالبان کے نمائندے نہیں تھے۔ اس لیے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان یہ پہلے رسمی مذاکرات ہیں۔‘

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق افغان حکومت کے وفد کے ایک ارکان نے کہا کہ طالبان نے مذاکرات کے پہلے دور میں افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی، اقوام متحدہ کی پابندیوں اور جنگی قیدیوں کے بارے میں بات کی۔

افغانستان کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور عید کے بعد ممکنہ طور پر چین میں ہو گا۔

پاکستان کے سیاحتی مقامی مری میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور چین کے اراکین کو باضابطہ مبصر کا درجہ حاصل تھا۔

واضح رہے کہ بدھ کو مذاکرات کے حوالے سے افغان طالبان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی تنظیم اپنی پالیسیوں میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں لائی ہے۔

ادھر پاکستان نے بھی ان مذاکرات کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار عنبر شمسی کے مطابق پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’پاکستان میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت بہت اہم پیش رفت ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ فریقین کے درمیان پہلی بار براہِ راست بات چیت ہوئی ہے۔‘

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چودھری اس ملاقات کے معاون تھے۔

قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ’بات چیت کے دوران ماحول انتہائی خوش گوار رہا اور فریقین نے رمضان کے بعد دوبارہ ملاقات کا وعدہ کیا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس ملاقات میں پاکستان کا کردار تعاون فراہم کرنا تھا اور پاکستان کی نمائندگی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری نے کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے کردار کو امریکہ اور چین نے سراہا ہے۔

جب قاضی خلیل اللہ سے پوچھا گیا کہ افغان طالبان کے وفد میں کون کون شامل تھا، ان انہوں جواب دیا کہ پاکستان اس بارے میں مزید بیان نہیں دینا چاہتا۔

’میں اس وقت نام وغیرہ نہیں بتا سکتا۔ اگر آپ دفترِ خارجہ کے اس بارے میں سات جولائی کو جاری ہونے والے بیان کو دیکھیں تو اس میں لکھا گیا تھا کہ چین اور امریکہ کے نمائندوں نے بھی اس ملاقات میں شرکت کی تھی۔‘