عدم اعتماد کے سائے میں مودی کا دورۂ چین

،تصویر کا ذریعہPMOIndia
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تین روزہ دورے پر چین پہنچ گئے ہیں جہاں وہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے لیکن خدشہ ہے کہ ان کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد کے گہرے ہوتے ہوئے سایوں سے متاثر ہو سکتا ہے۔
تاریخی طور پر ایشیا کی دو بڑے ملکوں کے درمیان تعلقات سرحدی تنازعات کی بنا پر کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی آبائی صوبے شانژی کے دارالحکومت ژیان میں ملاقات کرنے کے بعد بیجنگ اور شنگھائی جائیں گے۔
دورے پر روانہ ہوتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے دورے سے ایشیا میں خوشحالی کے راستے کھلیں گے۔
انھوں نے گزشتہ ہفتے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’میں اس بارے میں پر امید ہوں کے ان کا دورہ چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں اقتصادی تعاون کی نئی بنیاد رکھے گا‘۔
چین کے ساتھ بھارت کی سب سے زیادہ تجارت ہے جس کا حجم سنہ 2014 میں 71 ارب ڈالر رہا۔
بھارت کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے ساتھ بھارت کا تجارتی خسارہ سنہ 2014 میں بڑھ کر 38 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو کہ سنہ 2001 اور سنہ 2002 تک صرف ایک ارب ڈالر تک تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
بیجنگ سے ایک ہزار کلو میٹر دور وسطی چین میں واقع ژیان کے تاریخی شہر سے دورہ شروع کرنے کا نریندر مودی کا فیصلہ ایک علامتی حیثیت کا حامل ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کو دور کرنے کی دیرینہ خواہش کا اظہار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینی صدر شی جن پنگ جو کبھی کبھار کسی بیرونی شخصت کی میزبانی بیجنگ سے باہر کرتے ہیں نے نریندر مودی کو چین کے دورے کی دعوت گزشتہ سال نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کو دورہ کرتے ہوئے دی تھی۔
دونوں رہنما ژیان شہر میں قیام کےدوران وائلڈ گوز پگوڈا اور ٹریکوٹا جنگجوؤں کی نمائش دیکھنے جائیں گے۔
تجزیہ
بی بی سی کی نامہ نگار کیری گریسی کے مطابق صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین ایک پر امن، ملنسار اور تہذیب یافتہ شیر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کوئی بھی ذی ہوش شخص شیر کی کچھار میں بغیر کسی زرہ بکتر کے اترتا ہے؟
بھارتی وزیر اعظم کے لیے بھی وہی مشکلات ہیں جو چین کے دوسرے ہمسائیوں کو درپیش ہیں اور وہ اس ملنسار شیر کے ساتھ مشترکہ مفاد کی نشاندہی اس احتیاط کے ساتھ کرتے ہیں کہ کسی وقت بھی یہ شیر بپھر سکتا ہے۔
اس اعتماد کے ساتھ اب چین کی اٹھان رک نہیں سکتی۔ صدر شی جن پنگ کی سربراہی میں چین کی موجود قیادت نے چین کی خارجہ پالیسی کے اپنے پرانا طریقہ بتدریج بدلنا شروع کر دیا ہے جس کے تحت وہ وقت حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے تھے اور اپنی صلاحیتوں کو آشکار نہیں کرتے تھے۔
چین کے ذرائع ابلاغ کا وزیر اعظم مودی کے دورے کی طرف رویہ بڑا محتاط ہے۔
چین اور بھارت کے تعلقات سرحدی تنازعے کی وجہ سے گزشتہ نصف صدی سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1962 میں جنگ بھی ہو چکی ہے۔
نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کی روائتی غیر وابستہ خارجہ پالیسی سے ہٹ کر امریکہ سے تعلقات بڑھانے پر زور دیا ہے۔
چین نے اس کے جواب میں بھارت کے خطے میں روائتی حریف پاکستان سے اپنے تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کی ہے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے وعدے کیے ہیں۔







