بھارت میں راہبہ کے ریپ کا مرکزی ملزم گرفتار

ملزمان نے رواں برس مارچ میں پہلے عیسائی راہباؤں کی خانقاہ کو لوٹا پھر ایک 74 سالہ راہبہ کو ریپ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنملزمان نے رواں برس مارچ میں پہلے عیسائی راہباؤں کی خانقاہ کو لوٹا پھر ایک 74 سالہ راہبہ کو ریپ کیا تھا

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی پولیس نے ایک بوڑھی راہبہ کو ریپ کرنے والے مشتبہ مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

سی این این، آئی بی این کے مطابق بھارت کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے بدھ کی رات گئے ملون سرکار اور ایک دوسرے شخص کو گرفتار کیا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ ملون سرکار نے اس کیس میں مبینہ طورکیا کردار ادا کیا تھا۔

ملزمان نے رواں برس مارچ میں پہلے عیسائی راہباؤں کی خانقاہ کو لوٹا پھر ایک 74 سالہ راہبہ کو ریپ کر دیا۔

اس سے پہلے پولیس نے چھ مبینہ حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ راہبہ کے ریپ کے واقعے کے بعد پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور کئی شہروں میں احتجاجی جلوس نکالے گئے تھے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس واقعے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا تھا اور مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی نے حملہ آوروں کے خلاف تیز اور سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے سینیئر پولیس اہل کار دلیپ کمار آدک نے اس سے پہلے کہا تھا کہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث تمام آٹھ ملزمان کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

حملہ آوروں نے رواں برس 14 مارچ کو رانا گھاٹ ٹاؤن میں ایک خانقاہ کی پہلے بری طرح تلاشی لی اور توڑ پھوڑ کی، وہاں سے پیسے چرائے اور پھر ایک راہبہ کو ریپ کیا تھا۔

بھارت میں حالیہ مہینوں میں کلیساؤں اور عیسائی اداروں پر متعدد حملے کیے جا چکے ہیں جس کی وجہ سے عیسائی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔