بھارت میں راہبہ کے ریپ کا مرکزی ملزم گرفتار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی پولیس نے ایک بوڑھی راہبہ کو ریپ کرنے والے مشتبہ مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
سی این این، آئی بی این کے مطابق بھارت کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے بدھ کی رات گئے ملون سرکار اور ایک دوسرے شخص کو گرفتار کیا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ملون سرکار نے اس کیس میں مبینہ طورکیا کردار ادا کیا تھا۔
ملزمان نے رواں برس مارچ میں پہلے عیسائی راہباؤں کی خانقاہ کو لوٹا پھر ایک 74 سالہ راہبہ کو ریپ کر دیا۔
اس سے پہلے پولیس نے چھ مبینہ حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ راہبہ کے ریپ کے واقعے کے بعد پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور کئی شہروں میں احتجاجی جلوس نکالے گئے تھے۔
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس واقعے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا تھا اور مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی نے حملہ آوروں کے خلاف تیز اور سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔
بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے سینیئر پولیس اہل کار دلیپ کمار آدک نے اس سے پہلے کہا تھا کہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث تمام آٹھ ملزمان کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حملہ آوروں نے رواں برس 14 مارچ کو رانا گھاٹ ٹاؤن میں ایک خانقاہ کی پہلے بری طرح تلاشی لی اور توڑ پھوڑ کی، وہاں سے پیسے چرائے اور پھر ایک راہبہ کو ریپ کیا تھا۔
بھارت میں حالیہ مہینوں میں کلیساؤں اور عیسائی اداروں پر متعدد حملے کیے جا چکے ہیں جس کی وجہ سے عیسائی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔







