بوڑھی نن سے اجتماعی جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتاریاں

حملہ آوروں نے پرنسل کے دفتر اور سکول کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی اور پھر اقامت گاہ میں گھس گئے

،تصویر کا ذریعہAFPWest Bengal Police

،تصویر کا کیپشنحملہ آوروں نے پرنسل کے دفتر اور سکول کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی اور پھر اقامت گاہ میں گھس گئے

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں پولیس حکام نے ایک بوڑھی نن کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

74 سالہ راہبہ سے ریپ کرنے والے چھ مبینہ افراد کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی اور اس فوٹیج کی مدد سے پولیس ان کو تلاش کر رہی تھی۔

دوسری جانب اتوار کو بھارت کے گرجا گھروں میں متاثرہ راہبہ کے لیے خصوصی دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

پولیس نے سی ٹی وی فوٹیج جاری کی تھی اور مشتبہ ملزمان کی شناخت میں مدد دینے پر ایک لاکھ بھارتی روپے کا اعلان بھی کیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چھ مشتبہ ملزمان میں سے چار کی ویڈیو فوٹیج کی مدد سے شناخت ہو گئی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے سخت احکامات جاری کیے تھے جبکہ واقعے کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سی آئی ڈی کے حوالے کر دی گئی ہے۔

راہبہ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

حالیہ مہینوں میں بھارت میں عیسائی برادری کو نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحالیہ مہینوں میں بھارت میں عیسائی برادری کو نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں

پکڑے گئے مشتبہ افراد نے سنیچر کی علی الصبح راہبوں کے زیرِ انتظام سکول کی عمارت میں توڑ پھوڑ کی اور راہبوں کی اقامت گاہ میں داخل ہونے سے قبل پیسے چرائے۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں حال ہی میں مختلف مسیحی گروپوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انھیں بطور ایک کمیونٹی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے بہتر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر کلکتہ کے آرچ بشپ یا سب سے بڑے عیسائی پیشوا تھامس ڈی سُوزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول کے اندر واقع راہبوں کی اقامت گاہ میں نصب سکیورٹی کیمروں نے ان چھ افراد کو فلم پر محفوظ کر لیا ہے جنھوں نے یہ حملہ کیا۔ پہلے انھوں نے پرنسل کے دفتر اور سکول کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی اور پھر اقامت گاہ میں گھس گئے۔

تھامس ڈی سوزا کا کہنا تھا: ’کمیونٹی میں صرف تین سسٹرز (راہبائیں) ہیں۔ ان میں سے ایک کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری دو کو ایک محافظ سمیت کرسیوں سے باندھ دیا گیا۔‘

تھامس ڈی سوزا کا کہنا تھا کہ یہ سکول 19 برس سے چل رہا ہے اور کافی مشہور ہے۔

عیسائیوں کے سکول اور راہبہ پر یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب خواتین کے خلاف جنسی تشدد پر پورے ملک میں بہت تشویش کا اظہار ہو رہا ہے اور میڈیا پر ریپ اور دیگر واقعات کی کوریج بھی بھرپور ہو رہی ہے۔