زلزلہ متاثرین کی سب سے بڑی ضرورت ’پانی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    • مصنف, سنجے مجمدار
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، کھٹمنڈو

کھٹمنڈو کے لینچار کے علاقے میں قائم عارضی کیمپوں میں سے ایک میں کئی افراد کام میں مصروف ہیں۔ یہ افراد ایک بڑے کیمپ کے اندر اینٹیں اور لکڑیاں بچھا رہے ہیں جو اب 30 افراد کا عارضی مکان ہے۔

اس کیمپ میں موجود ایک متاثرہ شخص نے بتایا ’ہم بارش سے محفوظ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

یہ کیمپ ایک کھیل کے میدان پر بنایا گیا ہے اور اس میں اب بھی چند بچے کھیل کود میں مصروف ہیں۔

اس کیمپ کے ہر طرف کوڑے کا ڈھیر، پلیٹیں اور پلاسٹک سے بنےگلاس دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک دوسرے شخص نے جو اپنی بیوی اور چار بیٹوں کے ہمراہ وہاں پناہ لیے ہوئے تھا بتایا ’ہم یہاں گذشتہ تین دن سے رہ رہے ہیں اور نوڈلز پر گزارا کر رہے ہیں کیونکہ یہاں کھانے کو اور کچھ بھی نہیں ہے۔‘

ان کا گھر زیادہ متاثر نہیں ہوا لیکن مزید زلزلوں کے خوف کے باعث وہ کیمپ میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

وہاں کیمپ کے ایک کونے میں رضاکاروں کا ٹیبل بھی موجود تھا۔ یہ مقامی نیپالیوں پر مشتمل تھا جو ضرورت مند افراد کی مدد کر رہے ہیں۔

اگر آپ وہاں کسی متاثرہ شخص، رضاکار یا حکومتی اہلکار سے پوچھیں کہ کیا چاہیے تو وہ یہی کہے گا ’پانی‘

وہاں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کی کمی ہوتی جا رہی ہے اور حکام کو خدشہ ہے کہ اگر اس مسئلے کا حل نہ نکلا تو مختلف امراض پھوٹ پڑیں گے۔

ہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے پہنچنے والی امدادی ٹیموں نے وہاں ایک ٹراما سینٹر قائم کیا ہے جہاں اب تلِ دھرنے کو جگہ نہیں ہے۔

سڑک کی اطراف میں بنائے جانے والے متبادل ایمرجنسی روم میں مریض زمین پر گدے اور کمبل بچھائے لیٹے نظر آتے ہیں۔

امدادی کارکن میڈیکل سٹاف کے ہمراہ صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

معذور افراد کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی سربراہ سارہ بلِن نے بتایا کہ مریضوں کے لیے بیساکھیوں، سٹریچرز اور ادویات کی دور دراز علاقوں میں بہت زیادہ ضرورت ہے۔

انھوں نے بتایا ’ہوائی جہازوں کے ذریعے امدادی سامان جس میں ٹینٹ اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچایا جا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

سارہ بلِن نے کہا کہ دور دراز کے علاقے جہاں حالات بہت زیادہ خراب ہیں وہاں ان اشیا کی فوری ضرورت ہے۔

کھٹمنڈو کے ایک ہسپتال کے دوسرے کونے میں سپاہی ماسک پہنے لاشیں اٹھانے کا مشکل کام سر انجام دے رہے ہیں۔

ان میں ایک سپاہی نے بتایا کہ انھیں نیپال کے دربار سکوائر کے قریب ایک تباہ شدہ مندر کے نیچے سے ایک لاش ملی ہے۔

یہ سپاہی ہسپتال سے لاشیں اکھٹی کر کے انھیں مردہ خانے سے باہر رکھ رہے ہیں کیونکہ مردہ خانے میں لاشیں رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔

ان لاشوں سے تعفن اٹھ رہا ہے تاہم اس کے باوجود چند افراد نے اپنے چہروں پر رومال ڈال کر ان کو شناخت کرنے کی کوشش کی۔