’زلزے نے نیپال کا ثقافتی ورثہ مسمار کر دیا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
نیپال میں سنیچر کو آنے والے زلزلے کے جھٹکے بعض ذرائع کے مطابق زیادہ سے زیادہ صرف ایک منٹ تک محسوس کیے گئے لیکن یہ نیپال کے صدیوں پرانے تاریخی ورثے کی تباہی کے لیے کافی تھے۔
یونیسکو کی جانب سے کھٹمنڈو میں بین الاقوامی ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے والے سات میں سے چار مقامات کو اس زلزلے سے بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
نیپالی ٹائمز کے مدیر کندا دکشت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تباہی ’ثقافتی طور پر ایک ایسا نقصان ہے جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘ لیکن ان کے مطابق ان قدیم عمارتوں دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
نیپال کے قدیم شہر بھکتاپور میں اطلاعات کے مطابق گھروں کی تقریباً نصف تعداد کو نقصان پہنچا اور 80 فیصد مندر بھی تباہ ہوئے ہیں۔
تباہ ہونے والی دیگر عمارتوں میں کھٹمنڈو کا دہراہرا ٹاؤر بھی شامل ہے۔
نیپال کے پہلے وزیر اعظم کی جانب سے سنہ 1832 میں تعمیر کیے گئے اس ٹاور کو بِھمسن ٹاؤر بھی کہا جاتا ہے جو سیاحوں میں بے حد مقبول تھا جہاں وہ 200 سیڑھیاں چڑھ کر شہر کا نظارہ کر سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
زلزلے کے فوراً بعد منظر عام پر آنے والی تصاویر میں کھٹمنڈو کے قدیم شہر میں واقع معروف چوک دربار سکوائر میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ سکوائر یونیسکو کی فہرست میں شامل ہے۔
اس سکوائر کے قریب مختلف محل اور مندر موجود ہیں اور یہ یونیسکو کے مطابق کھٹمنڈو شہر کا ایک ’معاشرتی، مذہبی اور شہری زندگی کا مرکزی حصہ ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھکتا پور اور پٹن کے دربار سکوائر بھی زلزلے کے جھٹکوں کا نشانہ بنے ہیں۔
بھکتاپور کے مرکزی مندر کی چھت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جبکہ 16 ویں صدی میں قائم کیا جانا والا وٹسالا دُرگا مندر بھی زلزلے میں مسمار ہوگیا ہے۔ یہ مندر اپنے ریتیلے پتھر کی دیواروں اور سونے کا پانی چڑھی مورتیوں کی وجہ سے مشہور تھا۔
پٹن کے تیسری صدی میں قائم کیے جانے والے سکوائر میں بھی کئی عمارتیں مسمار ہوگئی ہیں۔
پانچویں صدی میں تعمیر کیے جانے والے سوایم بوناتھ مندر میں بھی تباہی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہother

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ویڈیو فٹیج میں تباہ ہونے والے عمارت کے سامنے والے حصے کو دیکھا جا سکتا ہے۔
وہاں موجود بدھا کے مجسمے کو نقصان نہیں پہنچا اور وہ ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
اطلاعات کے مطابق بدھ ناتھ کا مجسمہ اور پشو پتیناتھ کے ہندو مندر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
تاریخ دان پرشتم لوچان نے ایکانتی پور ڈاٹ کان نامی ویب سائٹ کو بتایا ’کھٹمنڈو، بھکتا پور اور للت پور (پٹن) میں بین الاقوامی ورثہ قرار دیے جانے والے کئی مقامات کو ہم کھو چکے ہیں اور انھیں ان کی اصل حالت میں بحال نہیں کیا جا سکتا۔‘
خیال رہے کہ سنہ 1934 میں تباہ ہونے والی کئی عمارتوں کو بحال کر دیا گیا تھا جن میں دہرارا ٹاور بھی شامل تھا۔







