گجیندر سنگھ کو کس نے مارا ؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اس ہفتے عام آدمی پارٹی کےزیراہتمام کسانوں کی ایک ریلی کےدوران راجستھان کے ایک کسان گجیندر سنگھ نے خود کشی کر لی۔گجیندر سنگھ کی خودکشی کے المناک منظر کو پورے بھارت نے ٹیلی ویژن پر براہ راست دیکھا۔
گجیندر سنگھ کے بارے میں موت کے بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حالیہ بے موسم کی بارشوں میں ان کی فصل تباہ ہو گئی تھی۔
بھارت میں مارچ اور اپریل کے مہینے میں اس برس چار سو فی صد سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔غالباً پچھلے 100 برس میں ان مہینوں میں اتنی بارش کبھی نہیں ہوئی۔ کسانوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ بچی ہوئی فصل لےکر جب وہ بازار میں پہنچے تو حکومت خراب معیار کا اناج کم قیمت پر خریدنے پر مصر رہی۔
ابھی کسان اس مصبیت میں الجھے ہی ہوئے تھے کہ حکومت نے ایک نیا آرڈیننس جاری کر دیا۔ اب یہ پارلیمنٹ میں بل کے طور پر پیش کیا جا چکا ہے۔ اس بل کے تحت حکومت اور نجی کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کی زمینیں حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنا دیا گیا ہے۔اس میں کسانوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس بل کی پورے ملک میں مخالفت ہو رہی ہے ۔
دراصل مودی حکومت اس قانون کے ذریعے غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ ایک کارپوریٹ دوست حکومت ہے اور صنعت کار اس کےاقتدار میں اپنی کمپنیاں اور صنعتیں قائم کرنےکے لیے بے روک وٹوک سرمایہ لگا سکتے ہیں ۔ انھیں کسی مشکل کے بغیر پورے ملک میں زمینیں دستیاب ہونگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں زرعی زمینیں بہت تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔ زراعت پر لاگت اتنی بڑھ چکی ہے اب یہ منافع بخش پیشہ نہیں رہ گیا ہے۔ اس پر کسانوں کو ہر معاملے میں بدعنوان سرکاری اہلکاروں سے نمٹنا پڑتا ہے۔ کسان سال ہا سال بد حالی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دوسری جانب زمینوں کے دام غیر معمولی طور پر بڑھنے سے کارپوریٹ ہاؤسز اور تعمیراتی کمپنیاں زمینیں خریدنے میں مصروف ہیں۔ کسان بھی اب بڑی تعداد میں زمینیں فروخت کر کے شہروں کا رخ کر رہے ہیں یا دوسرے کاروبار میں پیسہ لگا رہے ہیں۔ بہت سے چھوٹے کسان کوئی مہارت نہ ہونے کےسبب شہروں میں مزدور بن رہے ہیں۔
زراعت اب ملک کے بیشتر کسانوں کے لیے موت کی کھیتی بن چکی ہے ۔ ایک طرف بڑھی ہوئی لاگت اور دوسری جانب قدرت کی کوئی آفت۔ ہر لمحہ ان کی زندگی بے بسی کی تصویر ہے۔ ہر برس ہزاروں کسان مجبوری اور بے بسی میں خودکشی کر رہے ہیں۔ ہرگھنٹے ملک کے کسی نہ کسی خطے میں کوئی کسان اپنی زندگی ختم کرتا ہے ۔
سیاسی جماعتوں کے لیے کسان محض ووٹ بینک ہے۔ کبھی کوئی جماعت قرض معاف کرنے کا وعدہ کرے گی تو کوئی معاوضہ دینے کی بات کری گی لیکن کوئی ایسی جامع پالیسی بنانے کی بات کبھی نہیں ہوگی کہ جس سے کسانوں کو قرض نہ لینا پڑے اور وہ ایسی حالت میں نہ آئے کہ اسے امداد دینی پڑے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گجیندر سنگھ کی موت سے بھارت کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کے گھر والوں کو معاوضہ دے دیا گیا ہے۔ اس برس جو ہزاروں کسان خود کشی کریں گے ان کے گھر والوں کو بھی کچھ معاوضہ دے دیا جائے گا۔
خود کشی کے دن راجستھان کی رنگی برنگی روایتی پگڑی پہنےہوئے گجیندر سنگھ کی تصویر کچھ ہی دنوں میں دھندلی ہو جائے گی۔







