کسان کی خود کشی پر کیجریوال کی معذرت

،تصویر کا ذریعہAFP
دلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی ریلی میں ایک کسان کی خود کشی کے باوجود اپنی تقریر جاری رکھنے پر معذرت کی ہے۔
انھوں نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں میں غلط تھا، مجھے نہیں چاہیے تھا کہ میں تقریر جاری رکھتا اور ریلی کو ختم کر دینا چاہیے تھا۔ اگر میں نے کسی کو دکھ پہنچایا ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔‘
بدھ کو ریلی میں شامل ایک کسان گجیندر سنگھ نے درخت سے لٹک کر خود کشی کر لی تھی۔ اس ریلی میں چند ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔
کسان کی موت کے بعد سیاست دان ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔
جمعرات کو حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس اور برسرِ اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں نے کیجریوال کے گھر کے باہر مظاہرہ کیا۔
انھوں نے کسان کی خود کشی کے بعد بھی کیجریوال کے ریلی جاری رکھنے پر نہ صرف ان پر بے حسی کا الزام لگایا بلکہ کسان کی موت کا بھی ذمہ دار وزیرِ اعلیٰ کو ہی ٹھہرایا ہے۔
پولیس پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ خود کشی روکنے میں ناکام رہی جبکہ کچھ تو یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا واقعی گجیندر سنگھ خود کشی کرنا چاہتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جمعے کی صبح وزیرِ اعلیٰ نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ ریلی جاری رکھنے کا فیصلہ ایک برا فیصلہ تھا لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں وہ درخت نہیں نظر آ رہا تھا جس سے کسان نے خود کشی کی تھی کیونکہ وہ سٹیج سے کافی فاصلے پر تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمیں ذرا بھی خیال ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسا کر سکتے ہیں تو ہم میں سے کوئی انھیں روکتا۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ واقعہ میرے سامنے پیش آیا تھا۔ میں ابھی تک اسے ہضم نہیں کر سکا، میں اس رات سو نہیں سکا تھا۔‘
گجیندر سنگھ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کے جلسے میں شامل ہونے راجستھان سے آئے تھے۔ اس جلسے میں کیجریوال وزیر اعظم نریندر مودی کے متنازع اراضی کے حصول کے بل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
اس بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے کاشت کاروں کے مفادات کو نقصان پہنچے گا لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے معیشت میں بہتری آئے گی۔
گذشتہ ماہ اس بل کو پارلیمان کے ایوان زیریں میں منظور کیا گیا تھا لیکن اسے ایوان بالا سے اب تک منظوری نہیں ملی ہے جہاں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اقلیت میں ہے۔
1995 سے اب تک تین لاکھ بھارتی کاشت کار بڑھتے ہوئے قرضوں اور فصلوں کی کم پیداوار ہونے کی وجہ سے خود کشی کر چکے ہیں۔ لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میڈیا میں یہ واقعہ اس لیے زیادہ رپورٹ کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ایک شخص نے ہزاروں لوگوں کے سامنے خود کشی کی ہے۔








