بھارت میں ملازمت پیشہ خواتین زچگی کی سہولیات سے محروم

،تصویر کا ذریعہap
بھارت میں ایک خاتون صحافی نے اپنے ایڈیٹر کو اپنے حمل کے بارے میں ابھی بتایا ہی تھا کہ ایک ماہ کے اندر انھیں اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا۔
ان کے ای میل ان باکس میں ان کے آجر، جو ایک معروف ٹی وی چینل ہے، کی طرف سے انھیں غیر متوقع برطرفی کا خط ملا۔ خط میں لکھا تھا کہ ان کے ایڈیٹر ان کی کارکردگی سے ’مطمئن نہیں‘ ہیں۔
خاتون صحافی نے اس کے جواب میں ٹی وی چینل کے مالکوں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں حاملہ خواتین ملازموں کے حقوق سے محروم کیا گیا ہے اور اس وجہ سے ان کی ’برطرفی غیر قانونی اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
تین سال بعد عدالت نے فیصلہ کیا کہ خاتون کو ان کی پچھلی اجرتوں کے ساتھ ان کی نوکری واپس دینا ہو گی، لیکن چینل نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
بھارت میں زچگی کے قوانین کے مطابق خواتین کو ملازمت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انھیں تین ماہ کی باتنخواہ رخصت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
لیکن اکثر اوقات ایسا کاغذوں ہی میں ہوتا ہے۔ بھارت کی لیبر کورٹس کو 2008 اور 2012 کے درمیان زچگی کی سہولیات نہ ملنے کی 900 سے زائد شکایات درج کروائی گئی تھیں۔ لیکن عام طور پر کئی ملازمت پیشہ خواتین کو جب ان کے زچگی فوائد نہیں ملتے تو عدالت میں جانا تو دور، کام کرنا بھی چھوڑ دیتی ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ایک ہزار ملازمت کرنے والی خواتین کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں معلوم ہوا کہ شادی شدہ خواتین میں صرف 18 سے 34 فیصد بچے پیدا کرنے کے بعد کام کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روایتی طور پر بھارت میں بچوں کو مائیں پالتی ہیں اور کم ہی آجر انھیں لچک دار اوقاتِ کار فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی خواتین بچے پیدا کرنے کے بعد نوکریاں چھوڑ دیتی ہیں۔







